*ایک ملاقات بابا شہدادپوری کے ساتھ*
👈 میزبان: بابا شہدادپوری
السلام علیکم.! معزز دوستوں! آج کی نشست کسی تعارف کی محتاج نہیں، کیونکہ آج ہمارے درمیان وہ شخصیت موجود ہے جس کے قلم نے نہ صرف کاغذ پر لفظ بکھیرے بلکہ اعزازات کی دنیا میں بھی اپنی دھاک بٹھائی۔ 500 سے زائد تحاریر، درجنوں کتابیں اور گولڈ میڈلز کی چمک اپنے نام کرنے والے، بچوں کے چہیتے اور بڑوں کے معتبر ادیب، جناب دانیال حسن چغتائی صاحب آج ہمارے مہمان ہیں۔ آئیے، ان کے ادبی سفر کی ان کہی داستانیں خود ان کی زبانی سنتے ہیں.!
✍️ السلام علیکم.! سر میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ آپ جیسی قد آور شخصیت کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔
دانیال صاحب! گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ ‘فضیلتِ جہاں گولڈ میڈل’ اور اب ‘غنچہ ادب گولڈ میڈل 2026’ کا حصول آپ کی مسلسل محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس سفر کے آغاز میں سوچا تھا کہ آپ کا قلم آپ کو اس مقام تک لے جائے گا؟ اس کامیابی کا سہرا آپ کس کے سر باندھنا چاہیں گے؟
👈 وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ! جنابِ والا، یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے کہ آپ نے مجھے اس عزت سے نوازا۔ میرا تعلق علمی خاندان سے ہے۔ دادا اور نانا جان دونوں کتب کثیرہ کے مصنف تھے۔ نانا جان کا انتقال 2017 میں ہوا تو ان کے بعد خلا پیدا ہو گیا۔ جہاں تک پڑھنے کا تعلق ہے میری عمر کوئی چھ سال رہی ہوگی جب نونہال اور تعلیم و تربیت سے پڑھنے کی دنیا سے تعلق جڑا۔ لکھنے کے حوالے سے کبھی سوچا نہیں تھا لیکن مسلسل پڑھتے رہنے سے ذخیرہ الفاظ بنا تو لکھنے کا سفر ستمبر 2019 میں غیر ارادی طور پر شروع ہوا جو الحمدللہ اب تک جاری ہے۔ جب قلم تھاما تھا تو مقصود دل کی خلش کو قرطاس پر بکھیرنا تھا۔ یہ اعزازات، سب اللہ کا فضل اور بزرگوں کی دعاؤں کا ثمر ہیں۔ میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ یہ تشنہ لبی مجھے اس مقامِ بلند تک لے جائے گی۔ اس کامیابی کا سہرا میں اپنے اساتذہ کی شفقت اور والدین کی دعاؤں کے سر باندھنا چاہوں گا جن کی تربیت نے میری فکر کو جلا بخشی اور الفاظ کو وقار عطا کیا۔
✍️ سر ستمبر 2019 میں آپ نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ کیا لمحہ یا سوچ تھی جس نے آپ کو لکھنے پر آمادہ کیا؟
👈 اس کی کچھ وجوہات تو پہلے سوال میں بتا چکا ہوں کہ بڑوں کو لکھتے دیکھتا تھا تو کہیں نہ کہیں یہ ذہن میں تھا اور دوسری چیز یہ تھی کہ جب بچوں کے لیے پہلی کہانی پرنٹ ہوئی تو میرے لیے وہ لمحہ وجدانی کیفیت کا حامل تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ جو سوچتے ہیں بعض اوقات ہم وہ کہہ نہیں پاتے تو کہانیوں کی صورت میں وہ کہہ لینا ہمارے لیے بہت آسان ہو جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور اقدار کی پامالی نے روح کو تڑپا دیا تھا۔ محسوس ہوا کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے، لہٰذا قلم اٹھانا ضرورت بن گیا۔ وہ کسک تھی جس نے حرف کو جنم دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ مشغلہ میرا مقصدِ حیات بن گیا۔ قلم سے رشتہ استوار ہوا تو احساس ہوا کہ اظہار کی قوت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنے حصے کا چراغ جلا سکتے ہیں۔
✍️ بہت خوب! اچھا سر آپ نے بہت کم عرصے میں بچوں کے ادب سے لے کر کالم نگاری تک بہت سے شعبوں میں کام کیا۔ آپ کے نزدیک ایک ادیب کی اصل پہچان اس کا فن ہے یا اس کا صنفِ ادب سے تعلق؟
👈 میری دانست میں ادیب کی پہچان اس کا فن ہی ہوتا ہے۔ صنفِ ادب تو لبادہ ہے، کبھی افسانہ بن کر سامنے آتا ہے تو کبھی کالم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جو لوگ خود کو کسی خاص صنف ادب تک محدود کر لیتے ہیں وہ پھر بہت سی جگہوں پر پریشان ہوتے ہیں اور میرے خیال میں صنف کوئی بھی ہو، لکھنے والے کو اپنے تخیل کو استعمال کرنا چاہیے اور ہر جگہ لکھنا چاہیے۔ میری ذاتی رائے میں ادیب وہ ہے جو اپنے فن کے ذریعے انسانیت کا دکھ بیان کرے جینے کا قرینہ سکھائے۔ اصناف ادب تو مختلف حالات میں بدلتی رہتی ہیں مگر فن کی خوشبو سدا مہکتی رہتی ہے۔
✍️ بہت خوبصورت جواب دیا آپ نے سرجی۔
چغتائی صاحب بچوں کے لیے لکھنا بڑوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل سمجھا جاتا ہے۔ یہ بتائیں کہ آپ نے اپنی کہانیوں میں بچوں کی نفسیات اور اخلاقی تربیت کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا؟
👈 بچوں کے لیے لکھنا تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں خطابت سے زیادہ لطافت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ کہانی میں نصیحت کا پہلو براہِ راست ہونے کے بجائے فطرت کا حصہ معلوم ہو۔ کہانی میں منظر نگاری ایسی ہو کہ بچے کو یہ محسوس ہی نہ ہو کہ اسے نصیحت کی جا رہی ہے اور پیغام بھی پہنچا دیا جائے۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے خود بچہ بننا پڑتا ہے۔ جب تک آپ ان کی معصوم آنکھوں سے دنیا کو نہیں دیکھیں گے، ان کی اخلاقی تربیت نہیں کر سکتے۔ توازن تبھی برقرار رہتا ہے جب کہانی میں دلچسپی بھی ہو اور تعمیری پیغام بھی پوشیدہ ہو۔
✍️ بات بچوں کی ہورہی ہے تو آپ کی کتاب “کمرہ نمبر 70” جوکہ خوفناک کہانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ بتائیں کہ بچوں کے لیے “خوف” کے موضوع پر لکھتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ ڈرنے کے بجائے اس سے کوئی سبق حاصل کریں؟
👈 کمرہ نمبر 70 میں خوف کو سنسنی خیزی پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ بچوں کے لیے خوف پر لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار نہ ہوں بلکہ ان میں مہم جوئی اور برائی سے لڑنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ خوف کے سائے میں بہادری کی شمع روشن کرنا ہی کمال ہے۔ ہمارا مقصد انہیں ڈرانا نہیں بلکہ یہ سکھانا ہے کہ ایمان کی قوت اور عقلِ سلیم کے ذریعے ہر انجانے خوف پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
✍️ سر آپ صاحبِ کتاب بھی ہیں۔ سیرتِ رحمتِ عالم ﷺ” اور “عشرہ مبشرہ” جیسی اہم کتب لکھتے وقت آپ کے پیشِ نظر کیا خاص مقاصد تھے؟
👈 سیرتِ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور عشرہ مبشرہ پر قلم اٹھانا میرے لیے سعادتِ دارین ہے۔ میرا مقصد یہ تھا کہ نئی نسل کو ان پاکیزہ ہستیوں کی زندگیوں سے روشناس کرایا جائے جو رہتی دنیا تک مشعلِ راہ ہیں۔ آج کے پرآشوب دور میں نوجوان نسل آئیڈیلز کی تلاش میں بھٹک رہی ہے، انہیں یہ بتانا ضروری تھا کہ کامیابی کا معیار کیا ہے۔ ان کتب کے ذریعے میں نے اسلامی تاریخ کے درخشندہ پہلوؤں کو کہانی کی صورت میں سادہ اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہمارے بچے اپنے حقیقی ہیروز سے وقفیت حاصل کریں اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
✍️ آپ “سہ ماہی سرائے اردو” اور “سہ ماہی باغیچہ اطفال” کے مدیر بھی ہیں۔ ایک مصنف اور ایک مدیر کی ذمہ داریوں میں آپ کتنا فرق محسوس کرتے ہیں؟
👈 مصنف ہونا آزاد پرندے کی مانند ہے جو اپنے تخیل کی اڑان میں مگن رہتا ہے مگر مدیر کی ذمہ داری بہت بھاری اور کٹھن ہے۔ مدیر جوہر شناس کی طرح ہوتا ہے جسے دوسروں کی تحریروں کو نکھارنا اور انہیں ادبی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔ سرائے اردو ہو یا باغیچہ اطفال، ادارت کی میز پر بیٹھ کر جذبات سے زیادہ ذمہ داری کا احساس غالب رہتا ہے۔ مصنف تخلیق کرتا ہے جبکہ مدیر اس تخلیق کی نوک پلک سنوار کر اسے پیش کرنے کا قرینہ سکھاتا ہے۔ بعض اوقات آپ کا کسی سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ اختلاف اس حد تک نہ ہو کہ اس کی تحریر کو ہی مسترد کر دیں ۔ ادارت کرتے ہوئے ذاتی اختلافات اور جذبات کو ایک طرف رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب مختلف لوگوں کی تحریریں ہم پڑھتے ہیں تو ذہن میں آتا ہے کہ یوں بھی لکھا جا سکتا تھا تو ادارت یہ بہت بڑا فائدہ دیتی ہے۔
✍️ جدید دور میں جہاں ڈیجیٹل میڈیا کا غلبہ ہے، رسائل و جرائد کی اشاعت میں آپ کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
👈 موجودہ دور میں ہر چیز اسکرین کی قید میں ہے، کاغذ کی خوشبو کو برقرار رکھنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ مطالعے کی عادت کم ہو رہی ہے اور لوگ فوری معلومات کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایسے میں رسائل و جرائد کی اشاعت کے لیے مالی مسائل سے زیادہ قارئین کی توجہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مواد کو جدید تقاضوں کے مطابق رنگین اور پرکشش بنائیں تاکہ نئی نسل دوبارہ کتاب اور رسالے کی طرف مائل ہو سکے۔ یہ کٹھن سفر ضرور ہے مگر حوصلہ جوان ہے۔ مشکلات ضرور ہیں لیکن یہ سفر جاری رکھیں گے۔
✍️ اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین۔
اچھا سرجی ماشاء اللہ سے آپ نے بہت سے معتبر ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ ان میں سے کون سا اعزاز آپ کے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے اور کیوں؟
👈 ویسے تو ہر ایوارڈ محنت کا صلہ ہوتا ہے مگر میرے دل کے سب سے زیادہ قریب وہی اعزاز ہے جو بچوں اور قارئین کی محبت کی صورت میں ملتا ہے۔ ویسے بیسٹ رائٹر ایوارڈ 2021 میرے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ میرے ابتدائی سفر کی اس محنت کا اعتراف تھا جس نے مجھے مزید لکھنے کا حوصلہ دیا۔ جب آپ کی کاوشوں کو معتبر حلقوں میں سراہا جائے تو ذمہ داری کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
✍️ سنا ہے کہ آپ مستقبل قریب میں بڑوں کے لیے افسانوی مجموعہ لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیا اس مجموعے کا موضوع بھی بچوں کی کہانیوں کی طرح اصلاحی ہوگا یا ہم دانیال صاحب کا ایک بالکل مختلف رنگ دیکھیں گے؟
👈 بڑوں کے لیے جو افسانوی مجموعہ زیرِ ترتیب ہے، اس میں یقیناً آپ کو نیا رنگ نظر آئے گا مگر میرا بنیادی مقصد اصلاح ہی رہے گا۔ ادب اگر معاشرے کی اصلاح نہ کرے تو وہ لفظوں کی بازیگری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس مجموعے میں انسانی نفسیات کی الجھنیں، معاشرتی ناانصافیاں اور زندگی کے تلخ حقائق ہوں گے مگر ان سب کے پسِ پردہ روشن مستقبل کی امید بھی ہوگی۔ دانیال کا رنگ بدلے گا ضرور، مگر خوشبو وہی رہے گی جو خیر اور فلاح کی داعی ہے۔
✍️ مطالعہ ایک لکھاری کے لیے کتنا ضروری ہے؟ آپ کے پسندیدہ قلم کار کون ہیں جن سے آپ نے سیکھا؟
👈 مطالعہ لکھاری کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لیے سانس۔ جو لکھاری پڑھتا نہیں، اس کا قلم بانجھ ہو جاتا ہے۔ میں نے ہمیشہ کلاسک ادب سے سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے پسندیدہ قلم کاروں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے زبان کی چاشنی اور خیالات کی ندرت کو برقرار رکھا۔ ویسے تو بہت سے رائٹرز کو پڑھا ہے لیکن اگر کسی ایک کا نام لیا جائے تو وہ اشتیاق احمد ہوں گے۔ ان سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں ان جتنا لکھنا تو ممکن نہیں ہے لیکن وہ ہمیشہ میرے آل ٹائم فیورٹ رائٹر رہیں گے۔ مطالعہ آپ کے فکر کے افق کو وسیع کرتا ہے اور نیا زاویہ نگاہ فراہم کرتا ہے۔
✍️ حال ہی میں قلم سرائے میں تحریری مقابلہ ہوا بعنوان “حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت رحمت للعالمین” جس میں آپ نے اعزازی پوزیشن حاصل کی۔ کیا جزبات تھے اس وقت؟ کیسا لگا اس موضوع پر اعزازی پوزیشن حاصل کرکے؟
👈 قلم سرائے کے اس مقابلے میں اعزازی پوزیشن حاصل کرنا میرے لیے زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ جس موضوع کا تعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے ہو، وہاں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور قلم لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے کہ یہ وہ موضوع ہے کہ جہاں لکھتے ہوئے اپنے احساسات اور الفاظ کو ادب کے قرینے میں رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں پر کوئی چیز ایسی نہ لکھی جائے جو ندامت کا سبب بن جائے۔ اس وقت میرے جذبات خوشی سے زیادہ تشکر کے تھے کہ اللہ نے مجھے اس مبارک موضوع پر لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ میری عقیدت کا نذرانہ تھا جسے قبولیت کی سند مل گئی۔ یہ لمحہ میری زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہے۔
✍️ 500 سے زائد مضامین اور کہانیاں لکھنا ایک بڑا سنگ میل ہے۔ نئے لکھنے والوں کو آپ کیا مشورہ دیں گے کہ وہ اپنی تحریر میں “انفرادیت” کیسے پیدا کریں؟
👈 نئے لکھنے والوں کے لیے میری گزارش ہے کہ وہ مطالعہ اور مشاہدہ کو اپنی عادت بنائیں۔ انفرادیت تبھی پیدا ہوتی ہے جب آپ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے مشاہدات کو اپنی زبان عطا کرتے ہیں۔ مشاہدہ جتنا طاقتور ہوگا آپ اتنا زیادہ بہترین لکھ سکیں گے۔ لکھنے میں جلدی نہ کریں، بلکہ پہلے سوچیں اور پھر حرف کو کاغذ پر اتاریں۔ صداقت اور خلوصِ نیت سے لکھی گئی تحریر خود اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ انفرادیت کا راز آپ کی اپنی شخصیت اور منفرد نقطہ نظر میں چھپا ہوتا ہے، اسے پہچانیں۔
✍️ جاتے جاتے ہمارے اس سلسلے کے بارے میں بتائیں کہ آپ کو کیسا لگا ؟ کوئی رائے یا مشورہ دینا چاہیں گے ؟
👈 آپ کا یہ سلسلہ بے حد ستائش کے قابل ہے۔ جس عمدگی اور سلیقے سے آپ ادیبوں کے خیالات کو عوام تک پہنچا رہے ہیں، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ یہ پلیٹ فارم نئے اور پرانے لکھاریوں کے درمیان پل کا کام کر رہا ہے۔ میری رائے میں اس سلسلے کو مزید وسعت دی جائے اور اس میں نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی گوشے مختص کیے جائیں۔ آپ کی یہ کاوش اردو ادب کی آبیاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انٹرویو کیسا لگا اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں ۔
زندگی باقی ۔
ملاقات باقی ۔