اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

وردی کے سائے میں قتل، ایک استاد کی موت، نظامِ انصاف کا ماتم

وردی کے سائے میں قتل

راشد علی ✍️

رپوٹر شہدادپور جستجو نیوز

یہ کہانی کسی فلمی منظر کی طرح شروع ہوتی ہے

ندیم میتلو کے پاس ایک چٹھی آتی ہے، جس میں دو کروڑ روپے مانگے جاتے ہیں، اور ساتھ یہ تحریر کہ اگر رقم نہ ملی تو جان سے مار دیا جائے گا۔

چند دن گزرتے ہیں، ایک اور پیغام آتا ہے اس بار موبائل فون پر، ایک نامعلوم نمبر سے۔

ندیم میتلو پولیس کے پاس جاتا ہے،

پولیس تفتیش کرتی ہے، نمبر ایک عورت کے نام پر نکلتا ہے۔

عورت سے پوچھ گچھ ہوتی ہے، وہ بتاتی ہے کہ موبائل اس کے بیٹے کے پاس ہے۔

بیٹے سے سوال ہوتا ہے، وہ کہتا ہے: میرے اسکول کے ٹیچر نے اس کے موبائل سے کال کی تھی، یہ استاذ جام عزیز جکھرو تھے۔

فقط اتنا سنتے ہی پولیس حرکت میں آتی ہے، اور ایک عزت دار استاد کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کر لیتی ہے۔

شک کی بنیاد پر حراست، پھر تھانے کی دیواروں کے اندر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو انصاف کے منہ پر ایک سیاہ داغ ہے۔

رات ڈھلتی ہے، تو سول اسپتال کی خبر آتی ہے:

پولیس والے ایک لاش چھوڑ گئے ہیں۔

شناخت پر پتہ چلتا ہے کہ یہ لاش ہیڈ ماسٹر جام عزیز جکھرو کی ہے

جسے وحشیانہ تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔

شہر کے ہر گلی کوچے میں غم و غصے کی فضا چھا جاتی ہے۔

ورثا لاش کو صدیق اکبر چوک پر رکھ کر احتجاج کرتے ہیں 14 گھنٹے تک

ایم این اے، ایم پی اے اور دیگر بااثر لوگ پہنچتے ہیں، مگر ورثا کا ایک ہی مطالبہ ہے ایس ایچ او اور متعلقہ پولیس اہلکاروں پر قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے۔

مگر نظامِ انصاف کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

14 گھنٹے گزرنے کے بعد

ماسٹر عزیز جکھرو قتل کیس میں ایس ایچ او غلام شبیر دلوانی سمیت 6 پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور لواحقین ہالہ چوک پر 14 گھنٹوں سے جاری دھرنا ختم کر دیتے ہیں ۔

یہاں چند سوالات ہیں جن کا جواب پوری قوم چاہتی ہے

کیا صرف شک کی بنیاد پر کسی سرکاری استاد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے؟

کیا محض ایک دھمکی آمیز پیغام پر کسی بے گناہ شخص پر تشدد روا رکھا جا سکتا ہے؟

اور اگر واردات ہوئی ہی نہیں تھی، تو پھر انصاف کے ٹھیکیداروں نے عدالت کا کردار کیوں خود سنبھال لیا؟

قانون اگر صرف کمزور کے لیے ہے، تو پھر یہ انصاف نہیں، انتقام ہے۔

اگر پولیس والے ہی قانون شکن بن جائیں، تو پھر عدالتوں کی ضرورت کیوں رہ جائے؟

کیا ریاست کے پاس اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اپنے ہی اداروں میں چھپے ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے؟

یہ کیس صرف ایک استاد کے قتل کا نہیں

یہ ایک نظام کی موت ہے۔

یہ اس اعتماد کے قتل کی داستان ہے، جو عوام کو ریاست پر ہونا چاہیے تھا۔

یہ ایک تعلیمی چراغ کے بجھنے کا نوحہ ہے، جس نے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹی۔

جام عزیز جکرو کا خون صرف ان کے ورثا کا قرض نہیں، یہ معاشرے کی رگوں میں گردش کرتا سوال ہے

کیا ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی سزا مل جاتی ہے؟

کیا انصاف کا دارومدار وردی کے رنگ پر ہے؟

یا پھر قانون صرف اسی کے لیے ہے جو کمزور، لاچار اور بے سہارا ہے؟

اگر واقعی ہم ریاستِ مدینہ کے دعویدار ہیں، تو یہ کیس ایک مثالی مقدمہ بننا چاہیے۔

ایس ایچ او اور ملوث اہلکاروں کو کھلے عام عدالت میں لایا جائے۔

کیونکہ جب استاد محفوظ نہیں، تو تعلیم، نسل اور مستقبل سب غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

جام عزیز جکرو چلے گئے مگر ایک سوال چھوڑ گئے ہیں

کیا ہمارے ملک میں انصاف، اب بھی زندہ ہے؟

#بابا_شہدادپوری #Shahdadpur #JusticeForAll #StopPoliceKillingGenZ

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *