خطابت کے نئے چراغ روشن
✍️ بابا شہدادپوری کے قلم سے
ایک درد دل رکھنے والے شخص نے بیرانی شہر کی خاموش گلیوں میں پانچ برس پہلے ایک خواب دیکھا تھا۔ وہ خواب جو ہمارے عزیز دوست مولانا ساجد اقبال صاحب کی آنکھوں میں پہلی بار چمکا۔ یہ سوچ کہ اس شہر کے نونہالوں کا مستقبل صرف کتابوں تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کے ہونٹوں سے ایسی صدائیں بلند ہوں جو آنے والے کل کی شناخت بنیں۔
اسی فکر نے بزمِ حسین ابن علی کی بنیاد رکھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک قافلہ وجود میں آگیا۔ مولانا بشیر احمد صاحب عرف حافظ جی کی سرپرستی اور مولانا طاہر فاروقی صاحب کی صدارت نے اس تحریک کو وقار بخشا، اور یوں وہ چراغ روشن ہوا جس کی روشنی آج پورے بیرانی میں پھیل چکی ہے۔
گزشتہ رات مدینہ مسجد بیرانی میں اس بزم کا پانچواں عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا۔ بھائی مبشر صاحب نے راقم الحروف کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا، اور اہلِ علاقہ اس علمی و روحانی محفل کی شان بڑھانے کے لیے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اور پھر وہ دلکش منظر سامنے آیا جب ننھے منے طلبہ اپنے اپنے موضوعات پر پورے اعتماد اور مؤثر انداز میں خطابت کرنے لگے۔ ان کمسن مقررین کی گفتگو اور اندازِ بیان اس بات کا اعلان تھا کہ مستقبل میں یہ بچے منبروں اور محرابوں کا وقار ہوں گے۔
عدل کی میز پر چار منصفین تشریف فرما تھے، جن میں جامعہ اسلامیہ مدینہ العلوم ٹنڈو آدم کے معزز اساتذہ مولانا مفتی ابرار صاحب، مولانا محمد عمران صاحب، اور مولانا جاوید صاحب، جبکہ ان کے ساتھ حیدرآباد سے تشریف لائے ایم ایس او سندھ کے ذمہ دار مولانا حسن عتیق صاحب شامل تھے۔ ان حضرات کی باریک بینی سے کیے گئے فیصلے اس مقابلے کی سنجیدگی کا ثبوت تھے۔
اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عارف حسین صاحب اور مولانا عبدالوحید الرحمن صاحب نے نبھائے، اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خطابت، ترتیب اور نظامت ان کی رگوں میں دوڑ رہی ہو۔ آغاز میں مولانا ساجد اقبال صاحب نے بھی اپنے مخصوص جوش اور ولولے سے سامعین کے دلوں کو گرمادیا۔
انتظامات کی بات ہو اور بھائی مبشر فاروقی و یاسین آزاد صاحب کا ذکر نہ آئے، ایسا ممکن ہی نہیں۔ یہ دونوں حضرات ایک پل یہاں، ایک پل وہاں، بھاگ دوڑ میں تمام تر انتظامات کو دیکھتے رہے۔
پروگرام میں دینی، سماجی اور علمی شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ عزیز دوست ایم فیاض خان مری صاحب نے اپنی سریلی آواز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا تو ماحول روحانی خوشبو سے بھر گیا۔
اختتامی لمحات میں نوجوانوں کے محبوب خطیب، علامہ طاہر فاروقی صاحب نے بزمِ حسین ابن علی کی انتظامیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے مختصر مگر پراثر گفتگو کی۔
اس مقابلے میں 16 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔ کچھ جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلوم ٹنڈو آدم سے، چند جامعہ فاروقیہ عثمان شاہ ہوڑی سے، جبکہ باقی طلبہ بیرانی ہی کے مقامی مدرسہ مدینہ العلوم سے شریک ہوئے۔ ہر بچے نے اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
پوزیشن حاصل کرنے والوں میں:
اول: محمد مزمل ولد محمد شریف مگسی
دوم: محمد زید بن ہارون (جامعہ اسلامیہ مدینہ العلوم)
سوم: محمد دانش ولد علی اکبر
تمام پوزیشن ہولڈرز کو انعامات سے نوازا گیا، جبکہ دیگر طلبہ کو بھی کتابیں بطور تحفہ پیش کی گئیں۔ مولانا حسن عتیق صاحب نے نتائج سے قبل خطابت کے آداب و اصول پر مختصر مگر بہترین رہنمائی فراہم کی۔
آخر میں قاری ایوب صاحب کی پراثر دعا نے اس محفل کو ایک روحانی انجام بخشا، جس کے فوراً بعد مہمانوں کے لیے لذیذ چکن بریانی کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
بے شک! یہ بزم، یہ کاوش، یہ جذبہ بیرانی کے مستقبل کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ بچوں کے اندر تقریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور اس طرح کے پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھنا نہ صرف باعثِ سعادت ہے بلکہ آنے والے کل کے معماروں کی تربیت کا سنہرا باب بھی ہے۔
مولانا طاہر فاروقی صاحب، مبشر فاروقی صاحب، قاری یاسین آزاد صاحب، ساجد اقبال صاحب، اور پوری ٹیم یقیناً لائقِ تحسین و مبارک باد ہیں۔ بیرانی شہر والوں کو ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے تاکہ مستقبل اس طرح کے مزید پروگرام کا انعقاد کیا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ ان کی محنت، جذبے اور اخلاص کو قبول فرمائے۔
آمین۔