پانچویں سالانہ بزمِ حسین ابن علی

ایک درد دل رکھنے والے شخص نے بیرانی شہر کی خاموش گلیوں میں پانچ برس پہلے ایک خواب دیکھا تھا۔ وہ خواب جو ہمارے عزیز دوست مولانا ساجد اقبال صاحب کی آنکھوں میں پہلی بار چمکا۔ یہ سوچ کہ اس شہر کے نونہالوں کا مستقبل صرف کتابوں تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کے ہونٹوں سے ایسی صدائیں بلند ہوں جو آنے والے کل کی شناخت بنیں۔

گاؤں کی خاموش بستی میں ایمان کی روشنی کا میلہ

چند سال پہلے مولانا عبدالوحید صاحب، مولا فیضان عباسی صاحب اور مولانا فیاض مری سمیت کچھ مخلص ساتھیوں نے اس پسماندہ بستی کا رخ کیا، تو وہاں علم کا چراغ کہیں دور افق پر بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بچے کتاب سے نا آشنا، اور گاؤں کی فضا جہالت کی دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ مگر ان پاکیزہ دلوں نے حوصلہ ہارا نہیں…