(اصولوں کا محافظ، ہواؤں کے رخ سے بے نیاز)
تحریر۔۔۔۔۔ *قیصرعباس قیصر*
زندگی ایک مسلسل اور پر اسرار سفر ہے، جو کبھی تھمتا نہیں۔ یہ سفر ہمیں عروج و زوال کے ایسے موسموں سے گزارتا ہے جہاں ہر نئے موڑ پر ایک نیا امتحان منتظر ہوتا ہے۔ کسی لمحے کامیابیوں کی سنہری دھوپ ہمارے چہرے کو منور کرتی ہے تو اگلے ہی پل ناکامیوں کے گہرے سائے ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ لیکن، ان تمام موسمی تغیرات کے بیچ، ایک “خاندانی شخص” کی شناخت اس کی مستقل مزاجی اور رشتوں سے اٹوٹ وفاداری میں پنہاں ہوتی ہے۔
یہ قول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ خاندانی شخص وہ ہے جس پر زوال آئے یا عروج، وہ ہواؤں کا رخ دیکھ کر کبھی اپنے تعلقات اور یار دوست نہیں بدلتا۔ یہ صرف خونی رشتے داری کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ کردار کی وہ پختگی ہے جو اُصولوں اور اقدار کی چٹان پر قائم ہوتی ہے۔
عروج کا نازک امتحان
جب انسان پر عروج آتا ہے، اور دولت، شہرت یا اقتدار اس کے قدم چومنے لگتے ہیں، تو یہ وقت اس کے باطن کا سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کامیابی کی چکاچوند نگاہیں خیرہ کر دیتی ہے اور بسا اوقات، نئی شان و شوکت پرانے، سادہ اور مشکل وقت کے ساتھیوں کو حقیر جاننے پر اُکساتی ہے۔ لوگ شعوری یا لاشعوری طور پر زیادہ بااثر، زیادہ امیر اور زیادہ طاقتور حلقوں کی جانب جھکاؤ پیدا کر لیتے ہیں تاکہ اپنی نئی حیثیت کو مزید دوام دے سکیں۔
مگر ایک حقیقی خاندانی شخص ایسے نازک موڑ پر بھی اپنے پچھلے تعلقات کو کبھی پس پشت نہیں ڈالتا۔ وہ اُن رشتوں کی قدر و منزلت سے واقف ہوتا ہے جنہوں نے اُسے بے سرو سامانی کے عالم میں سہارا دیا۔ وہ اُن دوستوں کی اہمیت نہیں بھولتا جنہوں نے اس کے ساتھ مٹی کے نوالے کھائے تھے۔ عروج کے وقت بھی اس کا دل کشادہ اور نظریں زمین پر جمی رہتی ہیں، کیونکہ اسے ادراک ہوتا ہے کہ آج کی وقتی چکاچوند کل کی دائمی حقیقت پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے میزان میں، انسانی تعلق کی قیمت دنیاوی رتبے یا روپے پیسے سے کہیں زیادہ وزنی ہوتی ہے۔
زوال کی سخت آزمائش
دوسری جانب، زوال کا وقت ایک مختلف نوعیت کی آزمائش لے کر آتا ہے۔ جب انسان پر برا وقت آتا ہے، اس کا اثاثہ، صحت یا اثر و رسوخ چھن جاتا ہے، تو مفاد پرستوں کا ہجوم سب سے پہلے چھٹنے لگتا ہے۔ ان کا تعلق تو صرف چڑھتے سورج سے تھا۔
لیکن اس تنہائی میں بھی، خاندانی شخص اپنے اُصولوں کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے۔ وہ اپنی عزتِ نفس اور وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتا۔ وہ اس لیے لوگوں کے پیچھے نہیں بھاگتا کہ وہ اس کی مدد کو آئیں، بلکہ وہ اپنے مُستقل اور حقیقی رشتوں پر بھروسہ کرتا ہے جو اس کی حیثیت سے بالاتر ہو کر اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں بھی کسی سے بدگمانی یا شکوہ کیے بغیر، خاموشی سے اپنے لیے نیا راستہ تلاش کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا اپنی تکالیف کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے، اپنے باطن کی طاقت اور ہمت سے حالات کا مقابلہ کرتا ہے۔
کردار کی پختگی
حقیقی خاندانی شخص کی بنیاد اس کے اٹل اُصولوں پر ہوتی ہے۔ وہ موسم کی طرح جلد بدل جانے والا نہیں ہوتا۔ اس کا کردار کسی پتنگ کی طرح ڈور کے اشاروں پر ناچنے والا نہیں، بلکہ وہ اُس چٹان کی مانند مضبوط ہوتا ہے جو ہر طوفان اور موج کا مقابلہ ثابت قدمی سے کرتا ہے۔ اس کا ایمان ہے کہ تعلقات، رشتوں اور وفاداری کی حقیقی قدر تب ہی کھل کر سامنے آتی ہے جب حالات سازگار نہ ہوں۔
زندگی کی کتاب میں عروج و زوال محض ابواب ہیں، پوری کہانی نہیں۔ ایک خاندانی شخص اس کہانی کا وہ مرکزی اور لازوال کردار ہے جو اپنی اصل، اپنی بنیاد اور اپنے پیاروں سے ہمیشہ جڑا رہتا ہے۔ ایسے ہی لوگ معاشرے میں توازن، اعتماد اور انسانی قدروں کے علمبردار ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو یہ لازوال سبق سکھائیں کہ انسان کی پہچان اس کی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ اس کے مشکل وقت میں اپنائے گئے رویے اور مستقل تعلقات سے ہوتی ہے۔
ہواؤں کا رخ تو بدلتا رہے گا، مگر خاندانی شخص کے کردار کی شمع ہمیشہ روشن رہے گی۔
One Response