اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

عیسی طاہر ایک خیر پسند اور کمیونٹی ہیرو

تحریر: فراز بلوچ

عیسی طاہر ایک ایسے نڈر اور بےلوث انسان ہے جن کی زندگی کی بنیاد ہی خدمت خلق پر قائم ہے ان کی پیدائش بلوچستان کے ایک دور افتادہ قصبے میں ہوا۔ جہاں غربت و بےروزگاری نے لوگوں کی زندگیوں کو کفی حد تک بدحال و متاثر کیں ہے۔ بچپن سے ہی عیسی طاہر نے یہ محسوس کرتے آ رہے ہیں کہ ان کے اردگرد کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اور یہ دیکھ کر ان کی انسانی وجود انسانیت کے پیکر میں تبدیل ہونے لگا۔ اور وہ اب تک اپنے حصے کی شمع جلاتے آ رہے ہیں۔

وہ ہمیشہ اس سوچ کے پیروکار دکھائی دے رہے ہیں۔ کہ ایک انسان اپنی مثبت فکر سے و اپنی‌ شعوری آگاہی اور اپنی ثابت قدمی سے ادرگرد کے کمیونٹی کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

اعلی تعلیم و غیرسرکاری ملازمت کے ہر میدان میں انہوں نے کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو اؤل ترجیح دی۔

طاہر صاحب کی سب سے بڑی کامیابی ضرورت مندوں کو روزگار مہیا کرنا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ چاغی کے نوجوان بےروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں‌۔ تو انہوں نے سوشل ورکنگ کے ذریعے نوجوانوں کو ہنرمندی کا رستہ دکھانے میں مدد کی۔

عیسی طاہر نیشنل و انٹرنیشنل سطح پر اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اسلامک ریلیف جیسے بڑے نامی گرامی پروجیکٹ کے دروان ملازمت میں دور دراز پہاڑی علاقوں میں لوگوں کے گھریلو زندگی کو آسان بنانے کےلیے اپنی ذاتی ضروریات سے بھی مدد کیں ہیں اور کرتے آ رہے ہیں۔ سال 2022 کے سیلاب زده علاقوں صحبت پور ، جعفر آباد ، نوشکی کے ریگستانی دیہات ہوں یا چاغی کے خشک سالی کی لپیٹ میں گاؤں ہوں ہر حالت زدہ علاقے کی خدمت پیش پیش رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے مجھے یاد ہے دالبندین کے ایک ادبی و شاعر دوست نے عیسی طاہر کے کردار و شعوری پختگی کی بابت مجھ سے اظہار خیال کیا کہ جب ہم نے ایک ادبی پروگرام کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تو اس شعوری قدم میں ہمارے ساتھ پہلے پہل تعاون کرنے عہد ساز کردار جناب عیسی طاہر ہی تھے۔ جہنوں نے ہمارے فکری و شعوری تعاون ساتھ ساتھ بھرپور مالی تعاون کیں۔ علم و ادب ، کتاب کلچر کا میدان ہو یا کھیل کے میدان عیسی صاحب بلا تفریق بھائی و دوست بن کر ساتھ نبھاتے ہیں۔

حاضر وقت میں آر ڈی ایم سی کے انویسٹمنٹ کمیونٹی لیڈ جیسے ذمہ دار عہدے پہ فائض ہو کر بھرپور انداز میں نوکنڈی جیسے پسماندہ و حالت زدہ علاقے میں اپنی‌خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ علاقے میں بچے بچیوں کو ہنرمندی کے مواقع پیش کر رہے ہیں۔ ہنر فاؤنڈیشن کے ذریعے کئی لوگوں کو روزگار مل‌ رہی ہے۔ ایک‌ مشہور کہاوت ہے کہ

” لوگوں کو تیار مچھلی کھلانے کے بجائے ، مچھلی شکار کرنے کا ہنر سکھائے”۔

رخشان ڈویژن جہاں کسی بھی ضلع میں ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال نہیں وہیں انڈس ہسپتال کی تخلیق وجود عمل میں لانا۔ جو کہ ریکوڈک پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ جہاں جرید طرز کے طبی مشینوں کے ذریعے امراض کی تشخیص و علاج ہو رہا ہے۔ بہترین لیبارٹری پی سی آر ، جین ایکسپرٹ جیسی پیچیدہ ٹیسٹ بھی ماہر ٹیم کے زیر نگرانی میں ہو رہے ہیں۔

ریڈیو لوجی کے ڈیجیٹل ایکسرے منٹوں میں ہاتھوں ہاتھ مل جاتا ہے۔

تری ڈی الٹراساؤنڈ جو‌ کہ اس ریجن کا پہلا میشن ہے جو ماں اور بچے کی زندگی کو بچانے میں ایک کار آمد ثابت ہوئی ہے۔ فری‌ میڈیکل موبائل ہر ہفتے تنگ کچاؤ ، سرزے ، املاپ ، جھلی جیسے گاؤں ، گاؤں میں ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل ٹیم اپنی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف ہُمّئے جیسے چھوٹے سے گاوں میں ایک بہترین ہسپتال اور پین پروجیکٹ کے ذریعے تعلیمی اسکول میں پروفیشنل اساتذہ برسرپیکار ہیں۔ مشکی چاہ میں بھی اسکول فعال ہیں۔

ہم تنقید کو تنقیص کی شکل دے کر اپنی قابلیت و فتح سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی اچھے لوگوں کی قدر کرنا سیکھا ہی نہیں ہے نہ کبھی قدر نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کیں ہے۔ عظیم و عہد ساز شخصیات پسماندہ دھرتی پہ کبھی کبھی جنم لیتے ہیں۔ عیسی طاہر بھی انہی عہد ساز شخصیات میں سے ایک ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *