تحریر (احمد بلوچ)
بلوچستان، جہاں پہاڑوں کی سنگینی اور عام غریب آدمی کے دلوں کی سچائی ایک ساتھ سانس لیتی ہے، وہاں سیاست بھی محض اقتدار کی دوڑ نہیں ہے بلکہ بقا، شناخت اور انصاف کی جدوجہد کا پرامن راستہ ہے۔ اس سر زمین پر پیپلزپارٹی ایک ایسا خواب بن کر ابھری تھی جو شہید بھٹو کی زبان میں طاقت کا سرچشمہ عوام کی تعبیر تھا۔ لیکن ذاتی مفادات کی جنگ اقربا پروری کی گند اور کرپشن کی ناسور نے شہید بھٹو کے خواب کی تعبیر کو بدل دیا ہے۔ آج جب ہم بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی موجودگی کو دیکھتے ہیں تو ایک سوال ہتھوڑے کی طرح ذہن پر ضرب لگاتا ہے
کیا ہماری جماعت اب بھی غریب عوام کی جماعت ہے، یا اب یہ صرف موقع پرست نمائندوں کی جاگیر بن چکی ہے؟
یہ تضاد سب سے واضح اس وقت ہوتا ہے جب ایک طرف وہ منتخب نمائندہ نظر آتا ہے جو عالی شان دفاتر، سرکاری پروٹوکول، لین دین سودے بازی اور اقتدار کے نشہ میں مدہوشی بلکہ بے ہوشی کا نمائندہ بن کر کھڑا ہے، اور دوسری طرف وہ غریب اور نظریاتی جیالا کارکن کھڑا ہوتا ہے، جس کے پاس نہ عہدہ ہے، نہ مراعات، بھوکے ننگے بچے لٹا پٹا گھر پاوں میں ٹوٹا چہ وٹ مگر دل میں بھٹو کے وعدوں پر سچا یقین ہے۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں
ذرہ سوچئے
سرمایہ دار موقع پرست نمائندے کے لیے پارٹی محض ایک کشتی ہے جس پر سوار ہو کر وہ اقتدار کے سنگھاسن میں بیٹھ کر طاقت، ٹھیکے اور ذاتی اور خاندانی مفادات کی بندر بانٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ دار بنتے میں دن رات مصروف ہے۔ وہ حلقے کے عام غریب ووٹر سے خود کو دور رکھتا ہے، اور جب کبھی کسی سے ملتا بھی ہے تو صرف تصویر کھنچوانے یا چمچوں کو سیلفی بنانے کا موقع فراہم کرنے کے لئے ہٹو بچو کی شور میں عام ادمی کی تذلیل کا سبب بنتا ہے۔ اور اپنے چمچوں کو پذیرائی دلاکر عام غریب عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا ہے
دوسری طرف، جیالا کارکن پارٹی کے نظریے سے جڑا ہوا ہے۔ جیالا وہی شخص ہے جو دیواروں پر پوسٹر چسپاں کرتا ہے، جلسوں میں نعرے لگاتا ہے، پولیس کے ڈنڈے کھاتا ہے دور آمریت میں جمہوریت کی بحالی کے لئے قربانیوں کی داستان رقم کرتا ہے اور پارٹی کو ماں کہتا ہے۔ اور ماں کے ساتھ بے وفائی کو گناہ عظیم سمجھتا ہے
یہ تضاد محض طبقاتی نہیں، بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ حالات کے جبر یا ذاتی مفادات اور دولت جائیداد کے تحفظ کے لئے خود ساختہ نمائندگان کا فرار ان کا ازلی وطیرہ رہا ہے جب کہ عام ورکر کی استقامت آج تک پارٹی کو زندہ رکھنے کا سبب بنارہاہے ۔ اج بھی ایک طرف مفاد پرستی ہے ، دوسری طرف جیالے کی قربانی ہے ایک طرف طاقت اور دولت کا نشہ ہے ۔ دوسری طرف اصول اور نظریہ کی سیاست ہے۔ ایک طرف عیش وعشرت دوسری طرف بھوک اور افلاس کے باوجود پارٹی سے وفاداری ہے ۔
لیکن پارٹی کے اندر یہ کھلا تضاد بلوچستان میں پارٹی کی جڑیں کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے اور عوامی سطح پر مایوسی، کارکنوں میں بددلی، اور نوجوانوں میں لاتعلقی نے پیپلزپارٹی کو قوم پرستوں کے بیانیے کے سامنے غیر مؤثر بنا دیا ہے اور سرمایہ دار نمائیندہ اور ان کے چہیتے ٹھیکداروں کی تجوریوں میں دولت میں اضافہ کررہا ہے ۔جس کی وجہ سے آج پیپلزپارٹی کے اکثر نمائندے بلوچستان صوبہ تو دور کی بات ہے اپنے اپنے حلقوں میں بغیر سخت سیکیورٹی کے جا نہیں سکتے اپنی حفاظت کے لئے درجن بھر بندوق بردار محافظوں کے بندوقوں کی زور پر باہر نکلتے ہیں ۔ اس صورتحال میں اسمبلی میں موجود پیپلزپارٹی کے نظریاتی نمائندوں کو اپنی سمت کا درست تعین کرکے کارکنان کو اور عوام کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش تیز کرنا چاہئے اور مزید یہ کہ
بلوچستان میں پیپلزپارٹی کو اگر دوبارہ عوامی قوت بننا ہے تو اپنی مفاد پرستانہ سوچ کے نمائندوں کو جو پارٹی کو صرف دولت جمع کرنے اور ذاتی تجارت کو ترقی دینے کے لئے سرکاری وسائل تک رسائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کڑا احتساب لازمی ہے۔
یا پھر انہیں اپنا قبلہ درست کرکے سچے جیالے اور جیالی کو عزت دینی ہوگی جو کسی صلے کے بغیر صرف یقین پر جیتا آرہا ہے۔
پارٹی کی مرکزی قیادت خاص کر چئیرمین بلاول بھٹو کو فیصلہ کرنا ہوگا کیا پیپلز پارٹی بلوچستان میں عوامی تحریک ہے یا پیپلز پارٹی کے نام پر منتخب ہونے والے نمائندے اشرافیہ کے شطرنج کے مہرے ہیں ؟
آخر میں عرض ہے کہ
اگر شہید بھٹو کا خواب سچ تھا، تو جیالا ہی پارٹی کا وارث ہے نہ کہ وہ نمائندہ، جو غریب کے خوابوں اس کی پارٹی کے ساتھ دہائیوں پر محیط وفاداری اور لازوال قربانیوں کو ذاتی مفادات اور اقربا پروری کے تحفظ کی ترازو میں تول کر بیچ دیتا ہے۔
مگر یہ مت بھولنا کہ
جیالوں کے پاس وہ سب معلومات ہیں جو ایسے نمائندوں کے کالے کرتوتوں کو ثبوت کے ساتھ پیش کرنے کے لئے کافی ہیں ۔ لیکن شہید بھٹو کا جیالا اعلی ظرف ہوتا ہے کم ظرف نہیں ہوسکتا بیبی شہید کے جانثار عزت کرنا جانتے ہیں اور عزت لینا بھی جانتے ہیں پارٹی کارکن بھی عزت کا حقدار ہے عزت دیں عزت کے مینار لیں
اپنوں کا جن پر۔لیبل لگا ہوا ہے ان کو اصلاح کا موقع دینا چاہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اقتدار کے بعد یہ لیبل لگانے کو یہ نمائندے اپنی سب سے بڑی زندگی کی غلطی قرار دینے کا اعلان بھی کریں گے لیکن پھر بھی جیالے نے گند پھیلانے سے پرہیز ہی کو خود پر لازم لازم کیا ہوا ہے
ہاتھ جوڑ کر عرض کرتا ہوں کہ
نہ چھیڑ ملنگاں نوں کیونکہ
فارسی کہاوت ہے کہ
تنگ آمد بجنگ آمد