ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے جنگ قرار دینا حقیقت سے انکار ہے، یہ دراصل اسرائیل کی ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کو اُن کی زمین سے بے دخل کرنا، ان پر قبضہ جمانا اور کھلی نسل کُشی کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اردوان نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں فلسطینی عوام پر بے مثال ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ اُن کے مطابق ہزاروں معصوم مرد، خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی انتہائی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسپتال، اسکول اور رہائشی علاقے مسلسل نشانے پر ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نسل کُشی ہے۔
ترک صدر نے اس موقع پر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اردوان نے کہا کہ “ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کو ختم کریں اور مظلوم عوام تک بلا رکاوٹ امداد پہنچانے کو یقینی بنائیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اپنے طور پر متاثرہ فلسطینیوں کی مدد کر رہا ہے، کئی زخمیوں کو علاج کے لیے ترکی منتقل کیا جا رہا ہے اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی بھی جاری ہے۔
اردوان نے عالمی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں بلکہ مظلوم انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے، کیونکہ اگر اس نسل کُشی کو نہ روکا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔