اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

قافلۂ مزاحمت!

غلام اللہ شاہوانی

(مہکارِقلم)

تاریخ میں یہ داستان جلی حروف سے لکھی جائے گی کہ جب غزہ پر ظلم و ستم کے بادل منڈلا رہے تھے، اسرائیل کی درندگی سے اہل غزہ لہو لہاں ہوکر بہشت کے باسی بنتے جارہے تھے ، ماؤں جگر پارے شہید ہوتے جارہے تھے ، فلک بوس عمارتیں زمین بوس اور ان کے ملبے تلے شیر خوار بچے جان جانِ آفریں کو سپرد کر رہے تھے اور قحط سالی و بھوک سے خواب بکھر رہے تھے ، امیدوں کے چراغ گل ہورہے تھے ، آروزوں کی کشتیاں غرقِ آب ہورہی تھیں، خوف، خون کا راج تھا سر زمینِ قدس ایک اجتماعی قبرستان بن چکا تھا جس میں صرف شہدا غزہ نہیں بلکہ بادشاہانِ ملت کے ضمیر ، انسانی حقوق کے علم برداروں کے کھوکھلے نعرے، مسلم دنیا کی شجاعت و بہادری بھی دفن ہوچکے تھے۔

سو اس خون آلود فضا میں نیلگوں سمندر سے کشتیوں پر مشتمل ایک قافلۂ جرار “صمود فلوٹیلا” کی صورت میں سوئے غزہ روانہ ہوا۔ جس کا نام ہی استقامت و مزاحمت ہے۔یہ کاروان 31 اگست کو سلونیا سےروانہ ہوا اور پھر تیونس کے مقام پر باقی ممالک کے افراد شریک ہوئے، یہ قافلۂ عزیمت 50سے زائد کشتیوں میں 44 ممالک کے سینکڑوں سر پھروں پر مشتمل ہے جن کا مقصد غزہ پر اسرائیلی محاصرہ اور ناکہ بندی کو ختم کرنا، اسرائیل کو غزہ کے کس مپرس مسلمانوں کے استیصال سے روکنا، اور جانی و مالی معاونت کرنا ہے ۔

اسی کاروانِ انقلاب میں پاکستان سے سینٹر مشتاق اور سید مظہر شاہ صاحب سمیت ایک وفد بھی پاکستان کی نمائندگی کے لیے شامل ہے جو غزہ کے رستے ہوئے زخموں کا مداوا کرنے نکلے ہیں ۔

یہ قافلہ کئی دنوں سے سفر میں ہےان پر مشکلات اور رکاوٹیں آتی رہی، تیونس کے مقام پر بوقت شب اس بحری بیڑے پر ڈرون حملہ ہوا مگر خوش قسمتی سے تمام رفقائے سفر محفوظ رہے، جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے کیونکہ یہ انقلابی کاروان ہے جس کی گاڑی خون سے چلتی ہے ،اور انقلاب کی راہ مشکلات سے ہو کر گزرتی ہے سو قافلہ نہ رکا، نہ جھکا! بلکہ اور عزم و استقامت سے سرشار ہوا ۔

یہ ایک بحری بیڑا جو انسانیت کا بیڑا پار کرنے ، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے، خون آشام فضاؤں میں امن و آشتی کی خوشبو گھولنے اور سرزمین فلسطین کو آزادی دینے جا رہا ہے ، یہ کاروان ، حریت و آزادی کی پہچان ، مزاحمت و استقامت کا استعارہ ، امن و اشتی کا آئینہ دار ہے ۔ اس قافلے میں وہ عظیم افراد شامل ہیں جنہیں اپنی جانوں سے زیادہ اہل غزہ کی جانیں عزیز ہیں۔

یہ قافلہ امن کا پیغام لے کر دنیا کو امن و امان کی حقیقی تصویر دکھانے کے لیے کوشاں ہے ۔ ان شاءاللہ یہ کارواں غزہ پہنچ کر ہی دم لے گا ۔ رب کریم اس عظیم مشن کو اپنے مقاصد میں سرخرو فرمائیں اور دم بہ دم ان کی نگہبانی و دست گیری فرمائیں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *