تحریر۔۔۔۔۔۔ قیصرعباس قیصر
“گل مہر کے ساۓ” فراست رضوی کی غیر منقوط رباعیات کا چوتھا مجموعہ ہے جسے رنگِ ادب پبلی کیشنز نے کتاب مارکیٹ اردو بازار کراچی سے شائع کیا ہے۔
آرٹ پیپر پر چھپی یہ کتاب اردو ادب کے غیر منقوطہ ذخیرے میں سن 1983 کے بعد سے سن 2024 کے درمیانی 41 سال کی طویل اور خاموش مسافت کے بعد ایک نایاب اور انمٹ نقوش کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہے۔
” ایک جگہ افتخار عارف اپنے مضمون “فراست رضوی ایک منفرد رباعی گو” میں لکھتے ہیں کہ فراست رضوی میرے نزدیک لکھنؤ کی مرحوم و مظلوم تہذیبی روایت کے عہدِ حاضر میں نمائندہ ترین شخص ہیں وہ قادر الکلام شاعر، صاحبِ نظر نقاد اور وسیع المطالعہ اسکالر ہیں۔ خوش گفتاری کے فن اور مجلسی آداب و رسوم کی ثروت مندی نے ان کی شخصیت میں ایسی جامعات پیدا کر دی ہیں جس کی مثال دور دور تک نظر نہیں آتی ان سے ملیے تو اندازہ ہوتا ھے کہ جیسے ہم ایک دبستانِ روایت سے متعارف ہو رھے ہیں اور پڑھیے تو زبان و بیان کے جوہر کھلتے چلے جاتے ہیں۔
درحقیقت ادب میں مردہ روایت سے پہلو تہی کر کے زندہ روایت سے رشتہ قائم رکھنا ایک شاعر کا بنیادی وظیفہ ھے فراست اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ وہ ادب کی روایتی قدروں سے اپنا تعلق ٹوٹنے نہیں دیتے اسی باعث ان کی رباعیات میں ایک خاص گہرائی اور کلاسیکی رچاؤ ھے”
(بحوالہ زمستاں کا چاند مجموعہءِ رباعیات شاعر فراست رضوی)۔
عہدِ حاضر میں رباعی کے سب سے قدآور شاعر فراست رضوی شعری محاسن پر کہیں بھی سمجھوتا نہیں کرتے لسانی اسرارو رموز پر گرفت رکھتے ہیں اور اس کا مسلمہ ثبوت یہ ہے کہ ان بغیر نقطوں کی رباعیات میں اس درجہ مہارت دکھاتے نظر آۓ ہیں کہ جب تک توجہ نہ دلائی جاۓ کہ یہ رباعیات بغیر نقطوں والے الفاظ پر مشتمل ہیں قاری یا سامع کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ صنعتِ غیرمنقوطہ نے اپنی تازہ خیالی کا رنگ فراست رضوی کے قلم سے آراستہ کرلیا ہے۔
فراست رضوی کی رباعیات غیر منقوطہ کی پابندی کے باوجود اثرپذیری میں لاثانی ہیں جہاں ذاتی اور کائناتی احوال کا حصار قاری کو اس احساس سے کوسوں دور رکھتا ہے کہ اس کے زیرِ مطالعہ رباعیات نامانوس الفاظ کا ذخیرہ ہیں جہاں ابہام کے رنگوں سے بےمعنویت کا مجسمہ رنگا جاتا ہے۔
رباعی کی بحور اور تکنیک پر بے مثال گرفت رکھنے والے فراست رضوی کی ایک سو چونسٹھ غیر منقوطہ رباعیات پر مشتمل کتاب گل مہر کے ساۓ اپنی نظیر آپ ہے جو غیر منقوطہ کا جھومر ماتھے پہ سجاۓ فنی معیارات کے ہمراہ رباعی کے چوبیس اوزان کے مہمان خانے میں قارئین کے لئے زینت افروز ہے۔
اس کتاب میں اہلِ علم کی آراء کے ذیل میں ڈاکٹر شاداب احسانی ۔ آغا شہاب (کراچی) ۔ سلمان رزّاقی (ہیوسٹن) نے مضامین اور فلیپ تحریر کئے ہیں.
192صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1200 روپے درج ہے جبکہ اس کتاب کا انتساب فراست صاحب نے اپنی شریکِ حیات معروف شاعرہ نسیم نازش کے نام کیا ہے۔
One Response