سلسلہ: بابا شہدادپوری کے قلم سے
:راشد علی
میڈیا رپوٹر جستجو نیوز
میرے صحافتی سفر کی مختصر سی روداد
پرائمری اسکول کے زمانے میں ہی مجھے اخبار پڑھنے کی عادت ہوگئی تھی۔ اُس وقت سمجھ بوجھ تو کچھ خاص نہیں تھی، مگر کرکٹ کے شوق کے باعث اسپورٹس لنک کے صفحات بڑے شوق سے پڑھ لیتا تھا۔
اس زمانے میں فرصت ہی فرصت تھی، اور ٹی وی پر بمشکل ایک یا دو چینل، وہ بھی پی ٹی وی کے ہوتے تھے۔ لہٰذا نادانستہ ہی پرانے رسالے اور میگزین ہاتھ لگ جاتے، اور انہی کے اوراق نے مجھے پڑھنے سے محبت کرنا سکھا دیا۔
ہمارے محلے کے عزیز دوست بھائی عبد الرحمن صاحب (جو آج کل مسجد عمر فاروق سبزی منڈی شہدادپور میں مؤذن ہیں) کی جانی پورہ میں کباڑی کی ایک دکان تھی۔
جون جولائی کی چھٹیوں میں ہم صبح سویرے اُن کی دکان پر پہنچ جاتے، اور اخباروں کے انبار میں اپنا من پسند اخبار ڈھونڈ نکالتے۔
اخبار میں ایک صفحہ شاعری اور اقوالِ زریں کا ہوتا تھا۔ وہیں سے دل کو لفظوں سے محبت ہوئی، اور کاپی میں اشعار و اقوال نوٹ کرنے کی عادت پڑ گئی۔ یہ سلسلہ اسکول کے زمانے تک چلتا رہا، پھر مدرسے کا دور شروع ہوا۔ یہاں ہم بچوں کے اسلام اور خواتین کے اسلام رسائل کے مستقل قاری بن گئے۔
ساتھ ہی ہفتہ وار القلم اخبار بھی ہم تک پہنچ جاتا۔ کہتے ہیں، “ہر اچھا لکھاری پہلے ایک اچھا قاری ہوتا ہے” اور واقعی، یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ جب مطالعے کا ذوق پروان چڑھا، اور اخبار، ڈائجسٹ، رسائل پڑھنے کے بعد ذہن میں خیالات نے سر اُٹھانا شروع کیا، تو انگلیوں میں بھی حرکت پیدا ہوئی۔ دل مچلنے لگا کہ اب کچھ نہ کچھ خود بھی لکھوں۔
یہ غالباً 2012 یا 2013 کا زمانہ تھا، جب نوکیا موبائل کے پیغامات کا دور عروج پر تھا۔
میں نے بھی ان ہی ایس ایم ایس پیغامات سے اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا۔ چھوٹے چھوٹے میسیجز لکھ کر دوستوں کو بھیجنے لگا۔
جامعہ میں اس زمانے میں دوپہر کے کھانے میں اکثر بکرے کا گوشت بنتا، مگر کبھی کبھار اچانک دال بھی آجایا کرتی۔ جس دن دال بنتی، سب کے چہرے اتر جاتے۔ پھر کوئی تڑکے کا انتظام ڈھونڈتا تو کوئی لوہار گلی کے ہوٹل کا رخ کرتا۔
لیکن جب بھی بریانی یا پلاؤ بنتا تو ہماری خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ وقت گزرتا گیا اور
رفتہ رفتہ باورچی نصیر بھائی سے دوستی ہوگئی۔ میں صبح ہی جا کر ان سے پوچھ آتا کہ آج کیا پکے گا؟ اور جس دن دال ہوتی، میں فوراً بریکنگ نیوز چلا دیتا “بریکنگ نیوز! آج دوپہر کے کھانے میں دال ہے، تمام طلباء تڑکے کا بندوبست پہلے سے کر لیں!”
اسی طرح جب چاول بنتے تو پیغام یہ ہوتا
“آج کھانے میں بریانی ہے، تمام طلباء فوراً دسترخوان کی طرف دوڑیں!”
اس طرح سے یہ سلسلہ مشہور ہوگیا۔ صرف ہماری کلاس نہیں بلکہ دوسری کلاسوں کے طلباء بھی کہنے لگے، ہمارے نمبر بھی محفوظ کرلو، ہمیں بھی اپنی چٹ پٹی خبریں بھیجا کرو! تب خیال آیا کہ اس نیٹ ورک کا کوئی نام ہونا چاہیے۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنے اس پیغاماتی نظام کا نام رکھا
RS.News
یعنی راشد شہدادپوری نیوز
چند ہی سالوں میں آر ایس نیوز پورے جامعہ میں معروف ہوگیا۔ امتحانات کی تاریخ، چھٹیوں کا شیڈول، یا دیگر اعلانات سب کچھ آر ایس نیوز کے ذریعے پھیلتا۔ یہاں تک کہ بعض اساتذہ کرام بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بن گئے۔
یوں پورے جامعہ میں ہم “رپورٹر” کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ مگر پھر وقت بدلا۔ میسجز کا زمانہ یاد بن کر رہ گیا، اور اینڈرائڈ فونز نے دنیا بدل دی۔ میں نے واٹس ایپ اور فیس بک پر آر ایس نیوز کا سلسلہ شروع کیا، مگر مدرسے سے فراغت کے بعد زندگی کے اتار چڑھاؤ نے قلم سے ناطہ توڑ دیا۔ ایک دن فیس بک پر ایک اشتہار نظر سے گزرا “آن لائن صحافت کورس زیرِ نگرانی استاد انور غازی صاحب”
یہ کرونا کا دور تھا، وقت جیسے تھم گیا تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور داخلہ لے لیا۔
صحافت بیسک ، ایڈوانس اور اسپیشل تینوں آن لائن کورسز انور غازی صاحب سے کیے۔
یہ کورسز میرے لیے سمت کا تعین ثابت ہوئے۔
کچھ عرصے بعد لاہور کے روزنامہ پیش رفت میں رپورٹر کی ضرورت کا اشتہار دیکھا۔ رابطہ کیا تو بطور رپورٹر و کالم نگار منتخب ہوگیا۔
کچھ عرصہ بعد اخبار بند ہوگیا، تو میں نے فیس بک پر لکھنا شروع کیا۔ یہیں فیسبک پر ایک دن جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے شعبۂ صحافت کے استاد مولانا جہان یعقوب صاحب کے زیرِ نگرانی ایک سالہ آن لائن صحافت ڈپلومہ کا اشتہار دیکھا۔ میں نے فوراً داخلہ لے لیا۔ ان کے لیکچرز سے میں نے صحافت کا اصل مفہوم جانا انہوں نے تحقیق کا ذوق جگایا، لکھنے کی مشق کروائی اور نظریاتی بنیادیں مضبوط کیں۔
یہیں سے میرا قلم دوبارہ زندہ ہوا۔ پھر اس دوران میں نے آن لائن سائبان اکیڈمی قائم کی، جہاں دو تین سال تک پاکستان سمیت کئی ممالک کے طلبہ و طالبات کو آن لائن صحافت پڑھائی۔
آج بھی سینکڑوں شاگرد اسی نسبت سے میرے ساتھ فیس بک پر جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن قلم کے مزدور اکثر بھوکے پیٹ ہوتے ہیں اور یہی میرا حال ہوا۔ اس فیلڈ میں مجھے نام، شناخت، تعارف سب کچھ ملا، مگر جیب خالی رہی۔ آخرکار میں نے شوق کو وقتی طور پر الوداع کہا اور نیو حماد بیکرز کی ذمہ داری سنبھالی۔
کاروبار میں قدم رکھا تو وقت کی تنگی نے قلم سے رشتہ کمزور کردیا۔ زندگی یونہی شتر بے مہار گزر رہی تھی کہ گزشتہ روز مولانا عبد الحمید رخشانی صاحب کا پیغام آیا۔
انہوں نے فرمایا کہ جستجو نیوز کے لیے اپنی خدمات دو۔ اور سچ کہوں تو یہ پیغام میرے لیے ایسے تھا جیسے اندھے کو دو آنکھیں مل جائیں۔
میں نے فوراً ان کی پیشکش قبول کی، اور آج جستجو نیوز کے لیے اپنا پہلا کالم لکھ رہا ہوں۔
ان شاءاللہ آئندہ کالمز میں ہم ایک نئی سیریز “صحافت کا سفر” شروع کریں گے..
جس میں بات ہوگی کہ صحافت کیا ہے؟ اس کی تعریف و تاریخ کیا ہے؟ اس کے شعبے کون سے ہیں؟ ایک صحافی کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟
اور بہت کچھ جو نئے طلباء کو جاننا ضروری ہے۔
زندگی باقی، ملاقات باقی۔
#بابا_شہدادپوری