اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

تیسرا مسلسل تیس کا چاند: فلکیاتی حیرت اور شرعی نظام کی حکمت

​تحریر: قیصر عباس قیصر

​فلکیاتی تسلسل اور رویت کی کہانی

​گزشتہ چند ماہ سے فلکیاتی نظام ایک دلچسپ تسلسل کے ساتھ اپنی گواہی دے رہا ہے۔ اسلامی مہینوں کا مسلسل تیس دن کا ہونا، اور وہ بھی یکے بعد دیگرے، ایک ایسا واقعہ ہے جو عام مشاہدے میں کم ہی آتا ہے۔ جب تین چاند مسلسل تیسویں دن طلوع ہو رہے ہوں، تو یہ محض ایک فلکیاتی اعداد و شمار نہیں رہتے، بلکہ ہمارے رویت ہلال کے نظام، شرعی احکامات کی حکمت اور انسان کے مشاہدے کی بساط پر غور و فکر کا ایک نیا دروازہ کھولتے ہیں۔

​علمِ فلکیات کے ماہرین کے مطابق، چاند اپنے مدار میں گھومتے ہوئے سورج اور زمین کے درمیان مختلف زاویے بناتا ہے۔ قمری مہینے کی اوسط مدت تقریباً 29.5 دن ہے، یہی وجہ ہے کہ مہینہ کبھی 29 اور کبھی 30 دن کا ہوتا ہے۔ لیکن جب مسلسل تین مہینے 30 دن کے ہوں، تو یہ اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ نیا چاند (ہلال) ان مہینوں کی 29ویں شام کو غروب آفتاب کے بعد، اس وقت تک قابلِ مشاہدہ پوزیشن پر نہیں آیا تھا جب رویت کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک قدرتی اتفاق ہے جس کا امکان موجود ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ نجومی حساب سے زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک مسلسل 30 دن کے اور تین ماہ تک مسلسل 29 دن کے مہینے آ سکتے ہیں۔

​سنت نبوی ﷺ کی پختہ حکمت کا سائنسی ثبوت

​یہیں پر ہمارے دینی اور شرعی نظام کی سادگی اور پختگی نمایاں ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کے اوقات اور قمری مہینوں کے آغاز کے لیے جو آسان اصول دیا ہے، وہ آج بھی بہترین ہے۔

​”صوموا لِرُؤیَتِہِ و اَفطِروا لِرُؤیَتِہِ، فَإن غُمَّ عَلَیکُم، فَاَکمِلوا العِدَّةَ ثَلَاثِینَ”

(جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو، اور اگر تم پر بادل چھا جائیں یا مطلع صاف نہ ہو تو گنتی تیس پوری کر لو)۔

​مسلسل تیس کے چاند کا یہ تسلسل کئی اہم نکات کی تصدیق کرتا ہے:

​رویت کا اصول اٹل ہے: خواہ سائنسی کیلنڈر کچھ بھی بتائے، چونکہ 29ویں کو چاند نظر نہیں آیا، شریعت کا حکم یہی ہے کہ مہینے کی گنتی تیس پوری کی جائے۔ اس میں کسی ایسے بڑے سائنسی حساب کتاب کی ضرورت نہیں، جو عام آدمی کی دسترس میں نہ ہو۔

​عامۃ الناس کے لیے آسانی: یہ حکم عام لوگوں کے ایمان اور مشاہدے پر مبنی ہے۔ جب قدرت نے چاند کو چھپا لیا یا وہ قابلِ رویت پوزیشن میں نہیں آیا، تو ہم نے سہولت کے لیے 30 کی گنتی کو اختیار کیا۔

​ایمان اور سائنس کا توازن: سائنسی حقائق تسلیم شدہ ہیں، لیکن شرعی حکم ہمیشہ وہی رہتا ہے جو عام آدمی کے لیے سہولت بخش ہو۔ تین مسلسل تیس کے چاند اس بات کی فلکیاتی تصدیق ہیں کہ رویت ہلال کمیٹیوں کے فیصلے (اگر وہ اصول کے مطابق کیے گئے ہوں) فلکیاتی اعتبار سے بھی عین درست تھے۔

​اتفاق کا پل اور مستقبل کی راہ

​یہ مسلسل تسلسل ہمیں ایک سبق بھی دیتا ہے۔ ہمیں چاند کی رویت کو محض ایک روایت کے طور پر نہیں لینا چاہیے، بلکہ اس کی سائنسی باریکیوں اور اس کے شرعی اثرات پر غور کرنا چاہیے۔ اس سے رویتِ ہلال کے معاملے پر ہونے والے داخلی اختلافات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

​اگر ہم ماہرین فلکیات اور رویت کمیٹیوں کے درمیان ایک ایسا مستحکم پل قائم کر لیں، جہاں سائنس کی رہنمائی رویت کے امکان کو زیادہ واضح کرے اور شرعی اصول اس کو حتمی شکل دے، تو ‘تیسرا مسلسل تیس کا چاند’ جیسے واقعات مزید اعتماد کا باعث بنیں گے۔ یہ تسلسل محض ایک عددی اتفاق نہیں ہے، یہ نظامِ قمر کی پختگی اور کائنات کے رب کے بنائے ہوئے اس نظام کی گواہی ہے جو سورج اور چاند کو ایک مقررہ حساب سے چلاتا ہے۔

​تیسرا مسلسل تیس کا چاند ایک فلکیاتی حسن اور قدرتی توازن کی مثال ہے۔ یہ ہمارے آباؤ اجداد کے دیے گئے اس سادہ اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ “جب نہ دیکھ پاؤ تو گنتی پوری کر لو”۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ دینِ اسلام کا نظام سادہ، فطرت کے قریب اور انسان کے لیے آسان ہے۔ ہمیں اس نظام کی حکمت کو سمجھتے ہوئے اعتماد اور باہمی اتفاق کے ساتھ اپنے قمری کیلنڈر کو منظم کرنا چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *