اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

عہد آفرین

(تحریر ۔۔۔۔ قیصرعباس قیصر (کراچی

مردہ سماعتوں میں زندگی کی امید جگانے اور نابینا معاشرے میں آئینہ گری کا ہنر دکھانے والے جدیدیت کے رنگین معاشرے کے ضائع ترین افراد ہی نبضِ حیات کی روانی احساس کی جولانی جذبات کی شادمانی افکار کی ترجمانی کے لئے چراغِ راہ ثابت ہوتے ہیں۔

عہدِ رفتہ کے ایسے ہی ایک چراغ۔ مجسم دماغ۔ مکمل ادیب۔ خاموش خطیب ۔جہالت کے رقیب۔ مرکزِ علم کے نہایت قریب ۔ مرتیئے کے نقیب اردو نظم کا نصیب یعنی ڈاکٹر ہلال نقوی جن کے بارے میں پاکستان کے نامور ادیب کالم نگار و شاعر جمیل الدین عالی نے لکھا کہ ڈاکٹر ہلال نقوی کے تمام کارہاۓ نمایاں کے محاسن سے تو کیا صرف ایک تخلیق سے بھی انصاف نہیں ہوسکتا۔

وہ کون پڑھا لکھا شخص ہے جو ڈاکٹرہلال نقوی کے نام سے واقف نہیں یا انکے کام سے انجان ہے۔

آپ ایک بہترین استاد۔ مستند نقاد کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں تحقیق آپ کا شعبہ ہے 30 سے زیادہ کتب کے مصنف و مؤلف اور جوش ملیح آبادی کی شاگردی کی سند رکھنے کے ساتھ حقِ شاگردی ادا کرنے والے۔

جوش شناسی کے کینوس پر عہدِ حاضر کے لئے جوش کی مکمل تصویر متحرک کرنے کی صلاحیت سے مالامال اپنے اسلاف کی شان اور نئے آنے والے شاعروں ادیبوں کے قدردان نہایت شفیق و مہربان ۔ پیکرِ اخلاق

مہمان نوازی میں طاق ۔ لہجے میں نرمی گفتگو میں شائستگی ایسی کہ لغت میں نرمی و شائستگی کے سامنے ڈاکٹر ہلال نقوی لکھ دیا جاۓ تو کوئی مضائقہ نہیں۔

آپ نے راقم الحروف پر شفقت فرمائی اور یہ آپ کا خاصہ ہے جب جس سے جہاں ملے اعلیٰ ترین مشوروں سے نوازا راہنمائی فرمائی کام کو مستند بنانے اور سند کو معتبر کرنے کا ہنر سکھا کر اٹھے۔

ڈاکٹرہلال نقوی کا کہنا ہے شاعر و ادیب کا اپنے ماحول سے آگاہ ہونا ضروری ہے معاشرے کی نبض پر اسکی گہری نگاہ ہونی چاہیئے۔

حضرت جوش ملیح آبادی کے اولین شاگرد ہونے کا اعزاز رکھنے کے ساتھ حضرت نسیم امروہوی کی شاگردی پر فخر کرنے والی اردو مرثیے کی ایک انتہائی مستند شخصیت زمانہ شناس ادب پرور سنجیدہ ہستی کسی نعمت سے کم نہیں۔

علامہ نسیم امروہوی نے اپنے مرثیٸےکے ایک بند میں ڈاکٹر ہلال نقوی کی شاگردی کے حوالے سے جوش صاحب کا خط بطور حوالہ پیش کرتے ہوۓ واقعہ کا ذکر اس طرح کیا ہے.

شاگردِ اولیں ہے اسی کا جو اک ہلال

دی تربیت بشوق اسےروز و ماہ و سال

اصلاحِ مرثیہ کا مگر جب ا ٹھا سوال

خط لکھ دیا مجھےمرے بھائی اسے سنبھال

مطلب یہ تھا کے ردو بدل جانتا نہیں

پیتا ہے بے دریغ کبھی چھانتا نہیں

جوش ملیح آبادی اور علامہ نسیم امرہوی کے لئے ڈاکٹر ہلال نقوی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں.

5 مارچ 2023 کی شام ایک نجی ملاقات میں ساداتِ امروہہ سوساٸٹی میں مقیم ڈاکٹر ہلال نقوی نے اپنی رہاٸشگاہ پرگفتگو فرماتے ہوۓ کہا تھا

“ہر دور میں ادب و شاعری کے مستقبل کے حوالے سے سوال اٹھتا رہا ہے۔

ہر دور کے تقاضے۔ ترجیحات اور معیار جدا رہے ہیں اصل مقصد کام ہے آپ کے کام میں اگر طاقت ہوگی تو وہ زندہ رہ جاۓ گا۔

غالب اگر آج بھی غالب ہیں تو انکا کام اتنا پاور فل تھا کہ گردشِ زمانہ بھی انھیں منظرنامے سے معدوم نہیں کرسکی لہٰذا شکوے شکایت اور ماحول کی سنگینی پر کڑھنے کے بجاۓ اپنے گھر میں اپنی لاٸبریری میں کتابوں سے قرابت بڑھاٸیں صلے اور ستاٸش کی تمنا کیے بغیر ایک مضبوط کام کریں جو آپ کی زندگی کو دوام بخشے۔

شاعری کو ذریعہ معاش بناٸیں گے تو شاعری پیٹ ضرور بھرے گی لیکن اس کے لیے آپ کو دیگر فنکاریاں اور کماٸی کے گُر بھی سیکھنے پڑیں گے مگر آپ کے اندر موجود ایک سنجیدہ شاعر کو اس شاعر کی طبیعت میں موجود موزونیت کو یہ چیز کھا جاۓ گی چونکہ آپ کی بنیای ترجیح پیسہ ہے شعر و ادب کو آپ ثانوی حیثیت دیں گے تو شعر و ادب بھی آپ کو ثانوی رکھیں گے”

اسی نشست میں وہ سوال جس نے ہلال صاحب کی شخصیت کے پردے کو ذرا سا سرکا دیا وہ بھی پڑھتے جائیں۔

بلا شبہ جوش صاحب اور نسیم امرہوی صاحب کے لئے ڈاکٹر ہلال نقوی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہلال نقوی کے لیے بھی ایسا ناقابلِ فراموش کردار ادا کرنے والا کوٸی ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا ہلال صاحب کا چیپٹر انھیں کیساتھ کلوز ہوجاۓ گا۔ اس صورت میں آپ خود کو کہاں اور کس مقام پر محسوس کرتے ہیں؟

” ہلال صاحب نے بڑے دھیمے دھیمے مخصوص لہجے میں بتایا کہ میرے والد جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملازم تھے جب میں سات سال کا تھا تب والد صاحب کراچی کے علاقے دستگیر میں آکر آباد ہوۓ میرا بچپن دستگیر میں گزرا ہے ”مسجدِ عسکری“ کے تعمیراتی کام میں میرا حصہ ہے میں انجمنِ غلامانِ عسکری کا سیکریٹری بھی رہا ایک عرصہ محفلوں مشاعروں میں شرکت کی میرے سامعین میں جوش صاحب ۔ نسیم امرہوی صاحب ۔ آلِ رضا ڈاکٹر یاور عباس۔ سبط حسن انجم، نصیر ترابی، رفعت القاسمی، عبید اللہ علیم، احمد ہمدانی، سحر انصاری اور اس وقت کے بڑے نامور لوگ ہوتے تھے پھر ایک وقت آتا ہے کہ آپ مشاعروں سے محفلوں سے اکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں اسکی کٸی وجوہات ہوتی ہیں انسان کی اپنی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی رہتیں ہیں جسے آپ گوشہ نشینی سمجھ رہے ہیں وہ مشغولیات میں ترجیحی بنیاد کی تبدیلیاں ہیں جس ہلال نقوی کا اوڑھنا بچھونا ہی لکھنا ہو اور اس کے کام کی ایک طویل فہرست موجود ہو ،

وہ ڈاکٹر ہلال نقوی جو کہ جوش کی تمام قلمی نگارشات بشمول فنِ مرثیہ کے بہترین ناقدین میں سے ہے اور اس موضوع پر اب تک چھ کتب لکھ چکا ہے جس کی تصانیف کی فہرست یوں ہے

جدید بیاضِ مرثیہ 2012

نسیم امروہوی کے مرثیے 2012

ڈاکٹر یاور عباس کے مرثیے 2012

جوش ملیح آبادی

یادوں کی برات کا قلمی نسخہ

صابر تھاریانی کے گجراتی قطعات

چشمِ نم 1970

گلدستہِ اطہر پر ایک نظر 1977

جدید مرثیئے کے تین معمار 1977

امانتِ غم ( باقر امانت خانی کے مرثیے ) 1982

مقتل و مشعل (1976 )

پسِ تاریخ ( ڈاکٹر ہلال کا مرثیہ ) 1982

جمیل مظہری کے مرثیئے 1988

عرفانیاتِ جوش 1991 / 2011

مثنوی آب و سراب ( جمیل مظہری ) 1988

ارمغانِ نسیم (مقالات ) 1992

جوش ملیح آبادی کی نادر و غیر مطبوعہ تحریریں 1992

مسدس فریاد و جوابِ فریاد ( جمیل مظہری ) 1993

اذانِ مقتل ( ڈاکٹر ہلال کے مرثیے ) 1993

بیسویں صدی اور جدید مرثیہ ( مقالہ )1994

بیسویں صدی اور جدید مرثیہ ( مقالہ )1994

جوش ملیح آبادی ، شخصیت و فن 2007

جوش کے انقلابی مرثیئے 2010

اوراقِ جوش 2010

مرثیئے کی نایاب آوازیں 2011

انتقادیاتِ جوش 2017

انگاروں کے ہاتھ -نظموں اور غزلوں کا مجموعہ : منتظرِ اشاعت ہے

ان تصانیف کے علاوہ اردو ادب میں مرثیہ کے حوالے سے پہلا معتبر ادبی رسالہ” رثائی ادب ”کے نام سے جاری کیا اور ان میں بارہ بارہ سو صفحات کے انیس و دبیر نمبر بھی مرتب کٸے ہیں ۔

جہاں اردو شاعروں میں غالب اور اقبال کے ہی نام سے باقاعدہ رسالے جاری ہوئے تھے وہاں جوش شناسی کے عنوان سے باقاعدہ رسالہ جاری کیا جو صرف جوش ملیح آبادی کی تحریروں اور ان سے متعلق تحقیقات پر مشتمل ہوتا ہے۔

جوش ملیح آبادی کے ناقدین اس بات کے معترف ہیں کہ جوش سے متعلق ہلال نقوی کی مسلسل تحقیق و تحریر کے باعث ان کا نام برصغیر میں جوش ملیح آبادی پر تحقیق کے حوالے سے سند کا درجہ رکھتا ہے۔

جس کے مرثیٸے میں انقلابی اور آفاقی پیغام کے ابلاغ کو جوش ملیح آبادی نے ان الفاظ میں سراہا ہے۔

” میں اس صنفِ سخن یعنی مرثیئے کے میدان میں ان کی روایت شکنی کی داد دیتا ہوں۔انہوں نے لوگوں کو رلایا نہیں بلکہ جگایا ہے۔ حسین (ع) ان کے ہاں ایک مخصوص فرقے یا گروہ کے رہبر نہیں بلکہ پوری کائنات کے رہنما ہیں۔“

کیفی اعظمی صاحب نے رثائیات کے تحقیقی امور میں ہلال نقوی کو دوسرا شبلی قرار دیا ہے۔ ”اردو دنیا میں جوش شناسی میں اس وقت ڈاکٹر ہلال نقوی اتھارٹی کا درجہ رکھتا ہے۔“

کیا یہ سارے کام ڈاکٹر ہلال نقوی کے نام کو معدوم ہونے دیں گے۔

کیا یہ سارے کام ان مشاغل کے ساتھ ممکن ہیں جو شہرت اور منظرِعام پر رہنے کے لیے اکساتے ہیں۔

کتاب اور کتاب میں موجود تحریر صدیوں محفوظ رہتی ہیں بس اپنے کام سے مخلص ہوجاٸیں سنجیدگی سے کام کرتے جاٸیں دیکھیں روزآنہ ایک کنکر بھی اگر ایک کونے میں پھینکا جاۓ تو کچھ عرصے میں وہ ڈھیر پہاڑ بن جاتا ہے۔

ہلال نقوی نے اپنا کام آنے والی نسل کے لیے محفوظ کردیا ہے اب اس سے کون کس طرح کتنا استفادہ کرتا ہے یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے اور اسکا فیصلہ آنے والے وقت پر چھوڑ دینا چاہیٸے۔ اپنا کام اپنی ذمے داری کو سمجھتے ہوۓ دیانت داری سے انجام دیں تو خدا آپ کا ہرقدم پر مددگار ثابت ہوگا۔

یاد رکھیٸے اہلِ قلم حضرات کی ذمہ داری الگ ہے مشاعرہ اور محافل پڑھنے والوں کی الگ ذمے داریاں ہیں اپنی اپنی ذمے داریاں پہچانیں اپنا کام ایمانداری سے انجام دیں دوسروں کے کام میں ٹانگ نہ اڑاٸیں نہ ان سے حسد کریں

بجاۓ تنقید کرنے کے آپ بھی وہی کام شروع کردیں پھر آپ میں اور دوسروں میں فرق کیا رہ جاۓ گا۔”

اختتام سے قبل ڈاکٹرہلال نقوی کے ایک مرثیے بعنوان ہاتھ پر بھی چند سطریں دیکھتے جائیں ۔

ڈاکٹر ہلال نقوی کا ٣٨ سال قبل تصنیف کیا ہوا جدید مرثیہ بعنوان ہاتھ جسے توحید اسلامک سینٹر اوسلو ناروے نے سن 2024 میں شائع کیا گو کہ ایامِ عزا میں مجالسِ مرثیہ تحت اللفظ میں اپنے بھائی فرحان رضا سے یہ مرثیہ منظراکبر ایڈوکیٹ کے دولت کدے پر سماعت کرچکا ہوں لیکن بغور سنجیدہ مطالعہ کے بعد شعریات و جمالیات کے باب میں مجھ پر اچانک یہ کھلا کہ مرثیے میں جدیدیت کے کیا معانی ہیں۔

تاریخِ علم و ادب اگر آپ کے تمام ادبی تخلیقی ۔ تدوینی و تحقیقی کام بغض و عناد کی عینک لگا کر یکسر نظرانداز کر دے تب بھی آپ کی یہ نظم بعنوان ہاتھ جسکا اختتام آپ نے کربلا سے مربوط کر کے اسے معرکتہ آراء مرثیے کے شیلف میں رکھا ہے کوئی بددیانت سے بددیانت شخص اس تخلیق سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا۔

یہ پانچ سو سولہ مصرعے دراصل اردو ادب کے لیے پانچ سو سولہ انمول ہیرے ہیں جو ورقِ ادب و تہذیب پر دیدہ زیب ہیں محاوروں اور الفاظ کے ذخیرے کے ذیل میں اضافے کا سبب ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *