تحریر ۔۔۔۔ قیصرعباس قیصر
کیا ہم اپنے بچوں کے اغوا کاروں کی مدد کر رہے ہیں؟
ہم میں سے اکثر لوگ سڑکوں پر بیٹھے یا پھرتے ہوئے فقیروں کو دیکھ کر اللّٰہ کے نام پر یا انسانیت کے ناطے کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں اطمینان بخشتا ہے کہ ہم نے کسی ضرورت مند کی مدد کر دی، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری یہ نیک نیتی درحقیقت ایک منظم مافیا کو مضبوط کر رہی ہے؟ یہ پیشہ ور بھکاری ایک خطرناک مافیا کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں بھیک دے کر ہم نہ صرف ان کے جرائم میں مدد کر رہے ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
بھکاری مافیا اور معصوم بچوں کا اغوا
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شہروں کی سڑکوں پر نظر آنے والے بہت سے بچے جنہیں جبری طور پر بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اغوا شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ان کے والدین سے چھین کر دوسرے شہروں یا علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور پھر ان سے جبری مشقت کے طور پر بھیک منگوائی جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ ایک بچے اور اس کے والدین پر کیا گزرتی ہے؟ اس معصوم بچے کا مستقبل کیا ہوتا ہے جسے علم اور کھیل کود کے بجائے بھیک مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟ ہماری دی گئی بھیک ان ظالموں کے کاروبار کو مزید فروغ دیتی ہے، اور یہی بھکاری ہمارے معاشرے میں چھوٹی بڑی چوری، چھینا جھپٹی، اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔

*مستحق کون اور غیر مستحق کون* ؟
اسلام اور دیگر مذاہب میں بھی ضرورت مندوں کی مدد کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے، لیکن بھیک اور صدقے میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف وہ حقیقی مستحق لوگ ہیں جو اپنی عزت نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، اور دوسری طرف یہ پیشہ ور بھکاری ہیں جو ہماری ہمدردی کا فائدہ اٹھا کر اپنا دھندہ چلاتے ہیں۔ ہماری نیک نیتی ہمیں یہ سمجھنے سے روک دیتی ہے کہ ہم جن لوگوں کو مدد دے رہے ہیں وہ اکثر اوقات جرائم پیشہ ہوتے ہیں۔ ہمارے شہروں کی سڑکوں پر ایک سچائی یہ بھی ہے کہ جب ہم ان منظم بھکاریوں کو رقم دیتے ہیں تو درحقیقت ہم ان غریب اور سفید پوش افراد کی حق تلفی کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں امداد کے مستحق ہیں۔
*ہماری سماجی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری*
اب یہ ہماری سماجی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش مندی سے کام لیں۔ ہمیں فوری طور پر بھیک دینے کے بجائے، ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو اس کے اصل حقدار ہیں۔ اگر آپ کے دل میں انسانیت کی بنیاد پر کسی کی مدد کرنے کا جذبہ ہے تو براہ کرم اس کے لئے تحقیق کی زحمت کریں۔
*آپ درج ذیل طریقے اپنا سکتے ہیں* :
* معتبر فلاحی تنظیموں کو عطیات دیں۔ ایسے ادارے مستحق افراد تک امداد پہنچانے کا باقاعدہ نظام رکھتے ہیں۔
* اپنے ارد گرد موجود غریب اور مستحق لوگوں کی براہ راست مدد کریں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ضروریات سے آپ بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
*ضرورت مندوں کو خودداری سکھائیں کسی کی مالی مدد کرنے کے بجائے اسے کوئی کام سکھا کر اسے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کریں۔
جب ہم پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینا بند کر دیں گے، تو یہ مافیا خود بخود کمزور پڑ جائے گا۔ ہماری ذرا سی سمجھ داری نہ صرف ایک بڑے سماجی برائی کو روک سکتی ہے بلکہ معاشرے میں موجود حقیقی مستحق افراد کی مدد بھی کر سکتی ہے۔ آئیے، آج سے ہم ایک ایسی تبدیلی کا حصہ بنیں جو ہمارے معاشرے کو ایک صحت مند اور محفوظ جگہ بنائے۔
One Response