اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

پاکستان، سعودی عرب اور افغانستان: کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے?

تحریر۔۔۔۔۔قیصرعباس قیصر

پاکستان، سعودی عرب اور افغانستان: کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ بڑھتے ہوئے تعلقات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان سوالات میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا یہ نئی قربت، جس کی بنیاد اقتصادی تعاون اور سکیورٹی شراکت داری پر رکھی گئی ہے، ماضی کے اس دور کی یاد تازہ کر رہی ہے جب دونوں ممالک نے افغان سرزمین پر ایک مشترکہ اسٹرٹیجک مفاد کے لیے مل کر کام کیا تھا۔ انیس سو اسی کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جاری جہاد میں پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے، اور اس تعاون کے اثرات آج بھی خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج کی صورتحال اگرچہ انیس سو اسی کی دہائی جیسی نہیں، لیکن بعض پہلوؤں میں مماثلت ضرور پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب، جو ماضی میں افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکا تھا، ایک بار پھر وہاں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ اسی طرح، پاکستان کے لیے افغانستان میں استحکام ایک بنیادی ضرورت ہے، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر۔ سعودی عرب کا افغانستان میں دوبارہ فعال ہونا، اور طالبان حکومت کے ساتھ اس کے رابطے، پاکستان کی سکیورٹی صورتحال کے لیے ایک نئی جہت پیش کرتے ہیں۔

تاہم، موجودہ حالات ماضی سے بالکل مختلف ہیں۔ انیس سو اسی کی دہائی میں سعودی عرب کا کردار بنیادی طور پر نظریاتی اور مالی امداد پر مبنی تھا، جبکہ آج اس کا focus اقتصادی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو سعودی ویژن 2030 کے تحت بھی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سعودی عرب خود کو ایک عالمی اقتصادی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان کی خواہش ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو اور وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو اس کے سکیورٹی مفادات کا خیال رکھے۔

لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ یہ نئی شراکت داری خطے میں ایک اور پراکسی وار کا پیش خیمہ ثابت ہو؟ یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے۔ ایران، بھارت، اور روس جیسے ممالک کے اپنے مفادات افغانستان میں موجود ہیں۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب کی یہ نئی حکمت عملی ان ممالک کے مفادات سے ٹکراتی ہے، تو خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت موجود نہ ہو۔

آخر میں یہ کہنا مشکل ہے کہ تاریخ خود کو مکمل طور پر دہرائے گی یا نہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ ماضی کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کا نیا تعاون خطے میں مزید بے چینی پیدا کرنے کی بجائے، استحکام لانے کا باعث بنے۔ ماضی میں، اسٹرٹیجک مقاصد کے لیے کیا گیا تعاون بعد میں خطے میں شدت پسندی اور عدم استحکام کا باعث بنا۔ اس بار، یہ دونوں ممالک کو ایک زیادہ محتاط اور دیرپا حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ خطے کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مفادات بھی محفوظ رہ سکیں۔

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *