تحریر۔۔۔۔۔ قیصرعباس قیصر
دنیا کی رفتار بے انتہا ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کا پہیہ اتنی تیزی سے گھوم رہا ہے کہ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور علم کا خزانہ ہر ہاتھ میں آ چکا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار بھلا کون کر سکتا ہے؟ مگر اس شاندار اور تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں ایک سوال ہماری سوچ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے: کیا ہم واقعی آزاد ہو چکے ہیں، یا ہم ایک نئے اور خطرناک قسم کے قیدی بن چکے ہیں؟
ہم نے اپنے گھروں میں مشینوں کو جگہ دی اور انسانی رشتوں کو گھر سے باہر نکال دیا۔ آج ایک ہی چھت تلے بیٹھے خاندان کے افراد بھی اپنے اپنے سمارٹ فونز میں گم ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک کر دل کی بات کہنے کے بجائے، ایک سکرین پر بے مقصد سکرولنگ میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ محض ایک منظر نہیں، بلکہ ہمارے آج کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں دنیا سے جوڑ تو دیا ہے، لیکن ہم اپنے آپ سے اور اپنے قریبی لوگوں سے کٹتے چلے جا رہے ہیں۔
یہ جدید سہولتیں اور تیزی سے بدلتی زندگی ہمیں ایک ایسے راستے پر لے آئی ہے جہاں ہم نے اپنے اندر کے سکون اور خاموشی کو بیچ دیا ہے۔ یہ خاموشی ہی تھی جو ہمیں خود سے جوڑے رکھتی تھی، جو ہمیں اپنے فیصلے پر غور کرنے اور اپنے جذبات کو سمجھنے کا موقع دیتی تھی۔ آج کی دوڑ میں اس خاموشی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمارا ہر لمحہ کسی نہ کسی بیرونی شور سے بھرا ہوا ہے، کبھی نوٹیفیکیشن کی گھنٹی کی صورت میں، تو کبھی سوشل میڈیا کے بے ہنگم شور کی شکل میں۔ اس شور نے ہمیں اتنا مصروف کر دیا ہے کہ ہم اپنی ذات کی آواز بھی نہیں سن پاتے۔
اصل ترقی کی پہچان
کیا یہی اصل ترقی ہے؟ کیا ترقی کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور جدید آلات حاصل کرنا ہے؟ یہ سوچ ہمیں گمراہی کے ایک گہرے کنوئیں کی طرف لے جا رہی ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ حقیقی ترقی کا تعلق ہمارے دل اور روح سے ہے۔ اصل ترقی وہ ہے جب ہم اپنے دل کو انسانیت، اپنی سوچ کو مثبتیت اور اپنے عمل کو ایمانداری کے ساتھ جوڑیں۔
اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو محض جدید سہولتیں اور مصروفیت ہمیں ایک “مصروف قیدی” سے زیادہ کچھ نہیں بنا سکتیں۔ وہ قیدی جو ہر وقت مصروف تو ہے، لیکن اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس سمت جا رہا ہے۔ وہ ہر روز نئی منزل کی تلاش میں بھاگتا ہے، لیکن اسے اپنی منزل کا پتہ تک نہیں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کی رفتار کو کچھ دیر کے لیے تھامیں، اپنی روح کی آواز سنیں اور حقیقی ترقی کی راہ پر چلیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی کا غلام نہیں، بلکہ اس کا بہتر استعمال کرنے والا بننا ہے تاکہ یہ ہمارے دلوں کو انسانیت اور دماغوں کو دانائی سے جوڑ سکے۔
نوٹ: ادارے کا کالم نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔
One Response