اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

عام آدمی کا بجلی کا بل: ایک دائمی دکھ اور غیر منصفانہ بوجھ

تحریر: قیصر عباس قیصر

پاکستان میں بجلی کا بل اب صرف ایک ماہانہ ادائیگی نہیں رہا، بلکہ یہ ایک عام آدمی کے لیے مسلسل کشمکش، بے بسی اور ناانصافی کی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف بجلی کی چوری، لائن لاسز اور کرپشن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے، اور دوسری طرف اس تمام گڑبڑ کی قیمت صرف اور صرف ایک عام صارف کو چکانی پڑتی ہے۔

بجلی کا بل، ایک مالی بحران

عام صارف جو کہ دن رات کی محنت کے بعد بمشکل دو وقت کی روٹی کما پاتا ہے، اس کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہر مہینے بجلی کے بھاری بلوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہ بل صرف بجلی کے استعمال کی قیمت پر مشتمل نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اضافی ٹیکس، سرچارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ، اور ٹی وی فیس جیسے بے شمار بوجھ شامل ہوتے ہیں۔ ایک غریب یا متوسط طبقے کا شہری جب یہ بل ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کی ماہانہ بجٹ کا سارا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ ایک عام پنکھا اور ایک بلب چلانے کی اتنی بھاری قیمت کیوں؟ بلوں کی ادائیگی کے لیے وہ یا تو قرض لیتا ہے یا اپنی ضروریاتِ زندگی کو محدود کرتا ہے، اور یوں اس کی زندگی ایک دائمی مالی بحران کی حالت میں گزرتی ہے۔

چوروں کی موج اور دیانت داروں کی سزا

یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ایک عام شہری جو ایمانداری سے اپنا بل بھرتا ہے، وہ بجلی کی چوری اور کرپشن کا بوجھ بھی اٹھانے پر مجبور ہے۔ پورے ملک میں ہر روز اربوں روپے کی بجلی چوری ہو جاتی ہے۔ یہ چوری بڑے بڑے کارخانوں، تجارتی مراکز اور بعض بااثر افراد کی جانب سے کی جاتی ہے۔ ان سب کے غیر قانونی کنکشن اور کرپشن سے ہونے والے نقصان کو ‘لائن لاسز’ کی صورت میں دکھا کر عام صارف کے بل میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک ایماندار شہری کو سزا ملے جبکہ اصل مجرم کھلے عام گھومتے پھریں؟ جب ایک شہری دیکھتا ہے کہ اس کی دیانت داری کو سزا دی جا رہی ہے اور بے ایمانی کو کھلی چھوٹ ہے، تو اس کا اعتماد ریاست اور اداروں سے اٹھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی طور پر تباہ کن ہے، بلکہ معاشرے میں بے یقینی اور عدم اعتماد کو بھی فروغ دیتی ہے۔

حل کی ضرورت، صرف باتوں سے آگے بڑھ کر

حکومت اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف نرخ بڑھا کر یا اضافی ٹیکس لگا کر مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی چوری روکنے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس کے لیے بجلی چوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا، بجلی کے نظام میں موجود خرابیوں اور لائن لاسز کو کم کرنا، اور انتظامیہ میں موجود بدعنوانی کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جب تک اس غیر منصفانہ بوجھ کا خاتمہ نہیں ہوگا اور یہ تاوان صرف عام صارف کے بجائے سب پر برابر تقسیم نہیں ہوگا، یہ کالم صرف ایک تنقید نہیں، بلکہ ایک پکار ہے کہ اس ظلم کو روکا جائے اور عام صارف کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *