اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

این جی ایم فاؤنڈیشن کے دس سال

تحریر: فراز بلوچ

NGM Foundation

سوشل آرگنائزیشن وہ گروپ یا ادارہ ہوتا ہے جو کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے، جیسے تعلیم، صحت، غربت، یا ماحولیات کے مسائل حل کرنا۔

ان کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ حکومت کے علاوہ معاشرتی مسائل پر قابو پانے اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے خاص اداروں کی مدد ضروری ہوتی ہے۔

یہ لوگ رضاکارانہ یا پروفیشنلی طور پر معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

وہاں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی کمی ہوتی ہے۔

لوگ غربت، بیماریوں اور جہالت کا شکار ہوتے ہیں۔

سوشل ورکرز کمیونٹی کو شعور دیتے ہیں، مدد فراہم کرتے ہیں اور وسائل تک رسائی بڑھاتے ہیں۔

یہ علاقے حکومت کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں، اس لیے غیر سرکاری تنظیمات کی مدد بہت اہم ہوتی ہے۔

جی ایم فاؤنڈیشن کے نام سے شاہ پور چاکر جیسے چھوٹے سے دیہات شروع ہونے والا ایک سوشل ورکنگ ٹیم کراچی میں چاۓ کے ڈھابے پر بننے کی سوچ پھر اسٹوڈنٹس کی ایک ٹیم نے ساتھ مل کر 27-ستمبر 2015 کو باقاعدہ این جی ایم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی ۔۔

فاونڈنگ کمیٹی میں سب سے متحرک عبد القیوم جنہوں سے اسی سال سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرکے کراچی آۓ تھے اور سوشل ورکنگ کے تجربہ رکھتے تھے ۔انکے ساتھ سرفراز احمد جوکہ زندگی کے پہیے کو دھکیلنے کےلئے بلوچستان کے پہاڑوں سے حیدرآباد اپنے اعلیٰ تعلیم کے خواب لےکر آۓ تھے اور بارہویں میں زیر تعلیم تھے ۔پھر ہوٹل سے یہ ہوتا ہوا بانی نیو غلام مصطفیٰ کنسٹرکشن کمپنی کے مالک کے بڑے صاحب زادے کیڈٹ عبدالغنی جوکہ اس وقت کیڈٹ کالج میں زیر تعلیم تھے ،انہیں بھی مشورہ کیا گیا کہ ہم کچھ لوگ آپکے والد کے نام سے ایک سوشل آرگنائزیشن کی شروعات کررہے ہیں ۔

یوں یہ کاروان بڑھتا گیا ٹیم میں والنٹیئر شامل ہوتے گئے۔

27 ستمبر 2015 کو ایک ادبی تقریب بلوچ ہاوس شاہ پور چاکر میں منقعد ہوا جہاں جنرل باڈی کے اعلان ہوا۔

سرپرست اعلیٰ حاجی غلام مصطفیٰ بلوچ،چیرمین عبدالغنی ،ریسرچ سیکٹری عبد القیوم ،جنرل سیکٹری سرفراز بلوچ ،پریس سیکٹری اے جے عبدالجبار ،جواہنٹ سیکٹری شعیب رخشانی،میڈیکل کوڈنٹر ڈاکٹر عثمان رخشانی منتخب ہوۓ ۔

پھر اسکولز،کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات شامل ہوتے گئے۔

ستمبر 2016 کو دوسری بڑی ادبی تقریب منعقد ہوا جہاں ایک پروقار تقریب منعقد ہوا ۔یوں اس کاروان میں نئے لوگ آۓ۔

ایک ضلع سے ہوتا ہوا یہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی تک پہنچ گیا ۔جہاں پہلی میگزین “جستجو” لانچ کیا گیا۔

ملک بھر سے لوگوں میں اس میں لکھنا شروع کیا ۔دو سال کے سفر مکمل ہونے سے پہلے جس مقصد کے لیے این جی ایم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی وہ خواب پورا ہوتا ہوا ملا۔چاغی کے پہاڑوں سے کالج کے طلباء نےجستجو کےلئے لکھا،تھر کے صحراؤں سے ،خیبر کے درے سے مضامین و کالمز فیچرز پہنچنےلگے۔

نئے سال کے لیے طلباء کو کیرئیر کونسلنگ کیا کیا ۔این جی ایم کے بچے انٹرنیشنل و ملک کے نامور یونیورسٹیوں میں داخل ہوتے گئے۔

میڈیکل و انجینرنگ کے طلباء شامل ہوتے گئے۔

2017 اگست میں این جی ایم فاؤنڈیشن نے باقاعدگی سے ڈاکٹر عثمان رخشانی کے سربرائی میں پہلی میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جو کہ این جی ایم فاؤنڈیشن کے لیے تاریخی دن تھا۔۔

سرپرست اعلیٰ جاجی غلام مصطفیٰ نے افتتاح کیا اور افتتاحی تقریب میں کہا کہ انشاء اللہ ہماری کوشش ہوگی کہ این جی ایم فاؤنڈیشن کے بچے آگے بڑھے ۔

ایک صوبے سے ہوتا ہوا میڈیکل ٹیم نے ملک کے سب سے پسماندہ علاقہ دالبندین بلوچستان میں سال کے آخر میں ایک میگا میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا ۔

جہاں این جی ایم فاؤنڈیشن نے ایک دن میں سات سو مریضوں کے مفت علاج کئیے۔ادویات و مختلف خون کے ٹیسٹ ہوۓ ۔

اس کامیابی کا سہرا ہمارے بلوچستان کے ٹیم جو گیا۔

جہاں مرحوم سراج احمد سیاپاد نے مختلف مقطبہ فکر اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر کیمپ کو کامیاب بنایا، سماجی راہنما کے حثیت سے مرحوم سراج احمد سیاپاد کا ہمارے کاروان کے ساتھ آخری سفر تھا انکے بعد بلوچستان این جی ایم فاؤنڈیشن کے کوئی بھی پروگرام کا انعقاد نہیں ہوا۔۔

جہاں حالات و وقت کی رفتار بڑھتی گئی۔

ایک لمبی خاموشی کے بعد تقریباً دو سال بعد 2019 کراچی میں میں ایک جنرل میٹنگ رکھی گئی ۔

چیرمین عبدالغنی کے سرپرستی میں نئی جنرل باڈی منتخب کیا گیا۔

جہاں میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عثمان رخشانی ،نئی شامل اور سوشل ورکنگ کے تجربہ رکھنے والی ٹیم لیڈ ڈاکٹر کرن عبداللہ منتخب ہوئی،ریسرچ ایڈوائزر عبدالقیوم اور این جی ایم فاؤنڈیشن کے وائس پریزیڈنٹ کےلئے سرفراز بلوچ ،ریسرچ سروے ٹیم میں انجنئیر الیاس بروئی اور ڈاکٹر اسماعیل بروہی۔میڈیا ٹیم کے لئے محمود رخشانی اور عبدالجبار ،جنرل سیکٹری عبد السمیع بلوچ,جواہنٹ سیکٹری شعیب رخشانی ۔میڈیکل کور ٹیم کے لئے ڈاکٹر محبوب رند منتخب ہوئے اور لاجسٹک ٹیم کے لئے عبدالقدیر اور امداد رخشانی ،طارق رخشانی ۔۔

اس دوران سندھ کے کہی اضلاع میں ایڈز کنٹرول سے باہر تھا ۔این جی اوز اور سرکار بے بس تھا تب این جی ایم فاؤنڈیشن نے اگست 2019 کو پہلی بار ایک ایک انٹرنیشنل سوشل ورکنگ آرگنائزیشن کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا ۔

جہاں ہیلپ انٹرنیشنل ٹرسٹ نے خون کے ٹیسٹ کئے جس میں تھیلسمیا اور سی بی سی شامل تھا ۔اور این جی ایم فاؤنڈیشن کے میڈیکل ٹیم نے ایڈز کے تشخیصی ٹیسٹ کئے اور یہ ایک تاریخی پروگرام تھا۔

یوں این جی ایم فاؤنڈیشن نے ایک چھوٹے سے قصبے سے ہوتا ہوا ملک کے کہی علاقوں میں میڈیکل کیمپس اور مختلف سوشل ورکنگ پروگرام کرتے گئے ۔۔

2022 میں سیلابی صورتحال میں پھر متحرک ٹیم نے بلوچستان کے اضلاع جعفرآباد ،نصیر آباد اور جھل مگسی اور سندھ کے کہی علاقوں میں نوابشاہ ،سانگھڑ خیرپور میں میڈیکل کیمپس منقعد کئے ۔جہاں عبد السمیع بلوچ ،عبدالقیوم اور سرفراز بلوچ نے اپنے خدمات سرانجام دیئے ،سرفراز بلوچ کے ٹیم نے بلوچستان میں اپنے مدد آپ ڈاکٹرز کے ساتھ دن رات ریلیف کیمپس میں آسمان تلے لوگوں کے خدمت میں پیش پیش تھے،ڈاکٹر اسد بروہی،ڈاکٹر علی اور سینئر نرسنگ اسٹاف حسن بروہی نے بےحد خوش اسلوبی سے انجام دیئے ۔۔

این جی ایم فاؤنڈیشن نے انجنئیر ،ڈاکٹرز اور مختلف فلیڈ کے طلباء کو تعلیمی میدان سے لے کر انکے پروفیشنل زندگی تک پہنچایا۔

کراچی کے این جی ایم فاؤنڈیشن ہاسٹل نے کہی ضرورت مندوں کو انکے منزل تک پہچایا۔

ایک خواب تھا اسکی تکمیل میں حاجی غلام مصطفیٰ نے دل کھول کر مدد کیا۔۔

ایک خواب کی تعبیر سے لے کر تکمیل تک ان دس سالوں میں این جی ایم فاؤنڈیشن نے کہی کو زیرو سے ہیرو بنایا ،کہی ایسے خواب تھے جوکہ خواب تھے لیکن در ء این جی ایم فاؤنڈیشن سے وہ پورے ہوۓ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *