اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار) – پاکستان سمیت 16 ممالک کے وزرائے خارجہ نے “گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ” کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس فلوٹیلا کا مقصد غزہ کی پٹی تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا اور عالمی برادری کی توجہ فلسطینی عوام کی فوری اور ناگزیر ضروریات کی طرف مبذول کروانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا ایک پرامن سول سوسائٹی اقدام ہے جس میں ان ممالک کے شہری شامل ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف خوراک، پانی، ادویات اور بچوں کا دودھ جیسی بنیادی اشیاء پہنچانا ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ جنگ بندی اور امن کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
مشترکہ بیان میں عالمی قوانین اور انسانی ہمدردی کے قوانین کے احترام پر زور دیا گیا ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی غیرقانونی یا پرتشدد کارروائی سے باز رہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی، بین الاقوامی پانیوں میں شرکاء پر حملہ یا ان کی غیرقانونی حراست کی صورت میں اس کا جواب دینا اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا لازم ہوگا۔
اس موقع پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا:
“16 ممالک کا گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ کی تحفظ کیلئے جاری کردہ یہ مشترکہ بیان ایک چھوٹا مگر اہم قدم ہے جو درست سمت میں اُٹھایا گیا ہے۔ لازم ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور وسیع تر بین الاقوامی برادری نہ صرف متحرک ہو بلکہ بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور عملی اقدامات بھی کرے کیونکہ فاشسٹ نسل پرست ناجائز ریاست اسرائیل کسی قاعدے ضابطے کو نہیں مانتی۔ یہ فلوٹیلا غزہ کے لیے نہایت ضروری انسانی امداد—جس میں پانی، خوراک، ادویات، بچوں کا دودھ اور دیگر بنیادی اشیاء شامل ہیں—پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اقدام ایک پُرامن، غیر متشدد اور قانونی انداز میں عالمی یکجہتی کا اظہار ہے، جو مکمل بین الاقوامی حمایت اور تحفظ کا مستحق ہے۔ غزہ پہنچ کر رہیں گے ان شاءاللہ۔”
یہ مشترکہ اقدام دنیا کے سامنے ایک بار پھر یہ پیغام دیتا ہے کہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنا اور ان کی مدد کرنا صرف اخلاقی نہیں بلکہ انسانی اور عالمی فریضہ ہے۔