بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 15 سال سے جاری ہے، ہر سال 400 ارب روپے کو آگ لگانے کے مترادف ہے، کیسے؟ جانیے
اگر بھارت کے “سوریا گھر، مفت بجلی گھر” کا مطالعہ کریں جو 2024 میں شروع ہوا، اور صرف تین سال میں 2027 تک بھارت کے ایک کروڑ غریب گھروں میں مفت سولر بجلی پہنچ جاۓ گی، اس پروگرام کا کل بجٹ 2520 ارب روپے ہے،
پاکستان 15 سالوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تقریباً 5000 ارب روپوں کو آگ لگا چکا ہے، میں کیوں کہہ رہا ہوں؟ کہ آگ لگا چکا ہے، کیونکہ اس پروگرام سے پاکستان میں غربت میں کوئ کمی نہیں ہوئ، آج آدھا پاکستان غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہا ہے، اگر ہم اسی رقم سے بھارت کی طرح کا پروگرام شروع کرتے تو آج پاکستان کے تقریباً تین کروڑ گھر اپنے گھروں کی چھت سے مفت بجلی پیدا کر رہے ہوتے، تو آج 25000 میگا واٹ بجلی گھروں کی چھتوں سے پیدا ہو رہی ہوتی اور پاکستان میں لوڈ شینڈنگ نا ہوتی، آئ پی پیز کی ضرورت نا ہوتی، جس سے پاکستان کی تیل کی امپورٹ میں تقریباً سات ارب ڈالر کی بچت ہوتی، یعنی ہم ہر سال سات ارب ڈالر کا اپنے فارن ریزرو میں اضافہ کرتے جو اُس تیل اور گیس کی امپورٹ پر خرچ ہوتا تھا.
جو آئی پی پیز مہنگی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یوں نہ صرف ملک توانائی کے بحران سے نکل سکتا تھا بلکہ معیشت بھی کہیں زیادہ مستحکم ہو سکتی تھی۔