اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

اگلی قسط کے منظوری کے لیے (آئی ایم ایف) کے 11 نئی شرائط

پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے مزید 11 نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔ ان شرائط کے مطابق حکومت کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے قوانین میں تبدیلی کرنا ہوگی تاکہ سرکاری اداروں (SOEs) کو بغیر مسابقتی عمل کے دی جانے والی ترجیحی ٹھیکوں کی سہولت ختم کی جا سکے۔

حکومت نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ جولائی 2026 سے گیس کی قیمتوں کا ہر چھ ماہ بعد جائزہ لے کر ردوبدل کیا جائے گا، جبکہ جنوری 2027 سے بجلی کے نرخوں میں سالانہ بنیادوں پر تبدیلی کی جائے گی۔ اس پالیسی سے واضح ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران توانائی کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

نئے اسٹرکچرل بینچ مارک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) سے متعلق قوانین میں بھی ترمیم کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ان زونز کو دی جانے والی مالی سہولیات اور ٹیکس مراعات کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔

مزید برآں، نیب آرڈیننس میں تبدیلی اور ایف بی آر میں آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لیے مرکزی نظام متعارف کرانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ یہ اقدامات فنانس بل 2026 کے تحت کیے جائیں گے، جن کا مقصد منافع پر مبنی مراعاتی نظام کو ختم کر کے لاگت پر مبنی شفاف نظام قائم کرنا ہے، جبکہ تمام خصوصی مراعات کو 2035 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں، سی پیک کے تحت دی جانے والی سہولیات اور مراعات کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں نئے مالیاتی نظم و ضبط کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *