اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

ھم ایک ایسے مردہ قوم ہیں کہ سورج پر بھی ٹیکس برداشت کر گئے

ھائے افسوس۔۔ ھم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جو ہر

ظلم ہر ناانصافی اور ہر نئے بوجھ کو خاموشی سے برداشت کر لیتی ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسنے کے باوجود، بجلی، گیس اور بنیادی ضروریات پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز کے باوجود، ہماری اجتماعی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے سوال کرنے اور اپنے حقوق مانگنے کی روایت ہی چھوڑ دی ہے۔

اصل مسئلہ صرف حکمران نہیں، بلکہ ہماری اپنی سوچ اور رویہ بھی ہے۔ ہمیں مختلف سیاسی جماعتوں جیسے PTI، JUI، PPP اور PML-N کے جھنڈوں میں اس قدر تقسیم کر دیا گیا ہے کہ ہم “قوم” کے بجائے “گروہ” بن چکے ہیں۔ ہر شخص اپنی جماعت اور اپنے قائد کا اندھا دفاع کرتا ہے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اپنا لیڈر کرپشن کرے تو ہم اس کے جواز ڈھونڈتے ہیں، اور اگر مخالف کوئی اچھا قدم اٹھائے تو اس میں خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں۔

یہ رویہ دراصل ہماری اجتماعی کمزوری کی علامت ہے۔ ایک باشعور قوم اصولوں پر کھڑی ہوتی ہے، شخصیات پر نہیں۔ لیکن ہم نے اصولوں کو چھوڑ کر شخصیات کو مقدس بنا لیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں بار بار دھوکہ دیا جاتا ہے۔ حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ جب تک عوام تقسیم ہیں، وہ کبھی جوابدہ نہیں ہوں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بیدار ہوتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جاتی ہیں، تو بڑے سے بڑے نظام بدل جاتے ہیں۔ لیکن جب قومیں تعصبات، پارٹی وابستگیوں اور وقتی مفادات میں الجھ جائیں، تو ان پر بوجھ بڑھتا ہی جاتا ہے یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی سہولیات بھی مشکل ہو جاتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ یہ سوچیں کہ کیا ہم واقعی اپنے حقوق کے لیے سنجیدہ ہیں، یا صرف نعروں اور جذباتی وابستگیوں تک محدود ہو چکے ہیں؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک باشعور قوم بننا چاہتے ہیں یا پھر ایک ایسی بھیڑ جو ہر نئے بوجھ کو بغیر سوال کے قبول کر لے۔ یاد رکھیں تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتی بلکہ شعور، اتحاد اور مسلسل جدوجہد سے آتی ہے۔ جس دن یہ قوم ذاتی، لسانی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئی، وہ دن کرپشن، ناانصافی اور استحصال کے خاتمے کی شروعات ہوگا۔

لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انتظار چھوڑ دیں۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، سوال کریں، اور ایک قوم بن کر سامنے آئیں۔ کیونکہ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو کل شاید ہمارے پاس بولنے کا حق بھی نہ رہے۔

صحافی عبدالحمید رند:

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *