اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

ایم ایم روڈ چوک اعظم کی پکار

*تحریر جام احمد نواز*

پاکستان کی سڑکوں میں کچھ راستے ایسے ہیں جو محض آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ معیشت اور تجارت کے پہیے کو چلانے کی بنیاد ہیں انہی میں ایک اہم ترین شاہراہ ایم ایم روڈ ہے یہ راستہ برسوں سے ملک کی معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے آج یہ صرف کاغذی منصوبوں اور برائے نام کام تک محدود ہو کر رہ گیا ہے خاص طور پر چوک اعظم جیسے بڑے اور مصروف تجارتی شہر میں جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں ایم ایم روڈ کی موجودہ صورت حال عوامی ضرورت کے بالکل برعکس ہے….

ایم ایم روڈ پاکستان کی ایک ایسی شاہراہ ہے جسے نظر انداز کرنا ملکی معیشت اور عوامی سہولت دونوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے یہ سڑک مظفرگڑھ سے میانوالی تک پھیلی ہوئی ہے اور کم از کم پانچ اضلاع کو آپس میں جوڑتی ہے اس کی اہمیت صرف مقامی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہے کیونکہ کراچی کی بندرگاہ سے آنے والا سامان اسلام آباد پشاور افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک پہنچنے کے لیے اسی راستے کو استعمال کرتا ہے یہ سب سے محفوظ اور سب سے مختصر راستہ ہے اسی وجہ سے ماضی میں نیٹو سپلائی بھی اسی روڈ کے ذریعے کی جاتی رہی اور پاکستان نے صرف اس ایک روٹ سے اربوں ڈالر کمائے….

چوک اعظم شہر کی بات کی جائے تو یہ ضلع لیہ کا سب سے بڑا اور سب سے مصروف تجارتی مرکز ہے یہاں پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں بسیں ویگنیں گاڑیاں اور ٹرک گزرتے ہیں چوک اعظم شہر کی وجہ شہرت بھی یہی ہے کہ یہاں آپ کو ہر وقت ملک پاکستان کے ہر کونے کی ٹریفک نظر آئے گئی ۔۔۔۔مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اتنے اہم شہر میں ایم ایم روڈ کو اب تک ون وے نہیں بنایا گیا موجودہ منصوبے کے مطابق صرف دو اعشاریہ پانچ 2.5 کلومیٹر حصے کو ون وے بنایا جائے گا حالانکہ چوک اعظم کی بڑھتی ہوئی آبادی اور روزانہ کے تجارتی حجم کو دیکھتے ہوئے کم از کم 5 کلومیٹر تک ون وے ہونا چاہیے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو سکے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے…

یہاں یہ نکتہ بھی انتہائی اہم ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس اس سڑک کے اطراف میں وافر زمین موجود ہے اس لیے جگہ کی کمی کسی صورت میں رکاوٹ نہیں ہے اگر چاہا جائے تو باآسانی چوک اعظم شہر کے اندر ایم ایم روڈ کو 5کلومیٹر تک ون وے بنایا جا سکتا ہے اس کے برعکس صرف ڈھائی کلومیٹر 2.5 کا منصوبہ شہریوں کے مسائل حل نہیں کرے گا بلکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک کے دباؤ کے باعث مزید مشکلات پیدا کرے گا…..

چوک اعظم کی موجودہ صورتحال میں ایک اور بڑا مسئلہ نکاسی آب کا ہے شہر میں بارش کے دوران یا سیوریج کے پانی کی وجہ سے اکثر سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں اگر ایم ایم روڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق ون وے بنایا جائے اور اس کے ساتھ نکاسی آب کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے تو یہ سڑک نہ صرف دیرپا ثابت ہوگی بلکہ شہریوں کو بارشی اور گندے پانی کے مسائل سے بھی نجات ملے گی بصورت دیگر سڑک چند سال میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور حکومت کے تمام وسائل ضائع ہو جائیں گے…..

یہ حقیقت ہے کہ تمام شہروں کے اندر ایم ایم روڈ جیسے مرکزی راستے کو ون وے ہونا چاہیے بالخصوص چوک اعظم میں جہاں یہ شہر ڈیرہ ڈویژن کا سب سے اہم تجارتی حب ہے یہاں کی منڈیوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے لوگ خرید و فروخت کے لیے آتے ہیں روزانہ اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے ایسے میں اگر سڑک تنگ اور ناقص رہے گی تو یہ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور مقامی معیشت کو نقصان پہنچے گا……

ایم ایم روڈ کی نئے سرے سے دوہرایا تعمیرات کیلے بہت سے سنئیر صحافی سوشل ایکٹوسٹ وکلاء صاحبان اور مقامی سیاستدانوں نے اپنے اپنے طور پر کوششیں کی جن میں سر فہرست لیہ سے تعلق رکھنے والے سنئیر صحافی روف کلاسرا صاحب ۔ ڈپٹی کمشنر لیہ محترمہ امیرہ بیدار صاحبہ مقامی ایم پی اے کرنل شعیب امیر اعوان صاحب سابق ایم پی اے لالہ طاہر رندھاوا صاحب اور سابق نائب ناظم چوک اعظم اظہر کھیتران صاحب شامل ہیں ۔۔۔

مبینہ اطلاعات کے مطابق ایم ایم روڈ اندر حدودِ میونسپل کمیٹی چوک اعظم ون وے روڈ کا منصوبہ تھا ۔ جس کو بعد میں یکسر تبدیل کرکے محض 2.5 کلومیٹر تک محدود کردیا گیا جو کہ اتنے اہم اور گنجان آبادی والے شہر کیلے ناکافی ہے ۔ جس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل کا سامنا رہے گا ۔ بلکہ حادثات میں بھی اضافے کا خدشہ ہے ۔۔۔۔۔۔

لہٰذا حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ چوک اعظم شہر میں ایم ایم روڈ کے منصوبے کو سنجیدگی سے دیکھیں محض 2.5 کلومیٹر ون وے کافی نہیں ہے اس شاہراہ کو کم از کم 5 کلومیٹر تک ون وے بنایا جائے سگو موڑ نزد مال منڈی سے لے کر مرکزی قبرستان نزد ٹراما سنٹر تک اندر حدودِ میونسپل کیمٹی چوک اعظم تک اسکو ون وے کیا جائے اسکی اطراف کی زمین کو استعمال کیا جائے جدید نکاسی آب کا نظام شامل کیا جائے اور سڑک کو اس معیار کے مطابق تیار کیا جائے جس کی یہ اصل میں حقدار ہے۔۔۔

۔ اگر ایم ایم روڈ اندر حدودِ شہر چوک اعظم ون وے ہوجاتا ہے تو اس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل کم ہونگے بلکے حادثات میں بھی کمی واقع ہوگی ۔ اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا اگر یہ سب کچھ ہو تو ایم ایم روڈ ایک بار پھر پاکستان کی ترقی اور خطے کی تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتی ہے….

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *