اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

جنگ: حل نہیں، بلکہ ایک سنگین مسئلہ ہے.

تحریر: قیصرعباس قیصر

*جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے* …

جنگ! یہ صرف تین حروف کا ایک لفظ نہیں، بلکہ تاریخ کے صفحات پر بکھرا ہوا خون، بربادی اور انسانیت سوز مظالم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جب بھی عالمی یا علاقائی سطح پر کوئی تنازع شدت اختیار کرتا ہے، تو جلد ہی “فیصلہ کن جنگ” کی آوازیں اس شدت سے بلند ہونے لگتی ہیں کہ جیسے یہ کسی بھی مسئلے کا آخری اور واحد تریاق ہو۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

کیا ہم نے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے تباہ کن نتائج سے کچھ نہیں سیکھا؟ کیا مشرق وسطیٰ، یوکرین یا افغانستان کے میدانوں میں بہتا خون ہمیں یہ سادہ حقیقت سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ جنگ بذاتِ خود ایک سنگین مسئلہ ہے، نہ کہ اس کا حل؟

جنگ کو مسئلے کا حل سمجھنا ایک لمحاتی فتح کا فریب ہے۔ کوئی بھی جنگ، چاہے وہ کتنی ہی “فیصلہ کن” کیوں نہ ہو، اپنے ساتھ صرف نئے تنازعات، گہری نفرتیں اور دائمی زخم لے کر آتی ہے۔

جنگ کا سب سے پہلا شکار انسانی جان ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم کے نوجوانوں کی قربانیوں کا مداوا دنیا کا کوئی خزانہ نہیں کر سکتا۔ ایک ہلاک ہونے والا فوجی صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ ایک خاندان کی امید، ایک ماں کا سہارا اور ایک ملک کا مستقبل ہوتا ہے۔

جنگی جنون میں پل، سڑکیں، اسکول اور ہسپتال ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ تعمیر نو کے لیے درکار وسائل کی قربانی ملک کی ترقی کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کے لیے جنگ کے اخراجات ساہوکار کے قرض کی مانند ہوتے ہیں، جو کئی نسلوں تک اتر نہیں پاتے۔

لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر مہاجرت پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی کمی انہیں نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جنگ کے سائے میں پروان چڑھنے والے بچے تشدد اور خوف کا بوجھ لے کر بڑے ہوتے ہیں۔

جنگ صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتی، یہ ملک کی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کرتی ہے۔ جنگی اخراجات کا تمام بوجھ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کی صورت میں غریب عوام پر پڑتا ہے۔ وہ بجٹ جو تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی پر خرچ ہونا چاہیے تھا، وہ اسلحے کی خریداری اور دفاعی ساز و سامان پر لٹایا جاتا ہے۔

ساحر لدھیانوی نے اسی حقیقت کو سادہ الفاظ میں بیان کیا تھا:

> “جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی!”

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی بے پناہ سرمایا، جو ہتھیاروں کی تیاری اور فوجی مہمات پر صرف ہوتا ہے، اسے تعلیم کے فروغ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، غربت کے خاتمے، یا موسمیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ عالمی مسائل پر لگا دیا جائے تو دنیا کتنی مختلف ہو سکتی ہے!

اگر جنگ مسائل کا حل ہوتی تو دنیا میں اقوام متحدہ، عالمی عدالتیں اور امن ادارے بے معنی ہو جاتے۔ دنیا کے تمام پائیدار اور حقیقی حل، تاریخ گواہ ہے، ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور سفارت کاری کی میز پر ہی نکلے ہیں۔

* گفتگو ہی آخری راستہ: دو فریقوں کے درمیان کتنی ہی تلخی، تناؤ اور نفرت کیوں نہ ہو، انہیں بالآخر ایک دوسرے سے بات کرنی ہی پڑتی ہے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ یہ مشکل قدم ہزاروں جانیں گنوانے اور اربوں کا نقصان کرنے سے پہلے اٹھا لیا جائے۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ تنازعات میں غیر جانبدار ہو کر موثر ثالثی کا کردار ادا کریں، تاکہ جنگ کے شعلے بھڑکنے سے پہلے ہی بجھ جائیں۔

ہمیں اپنی قومی سوچ کو جنگی جنون کے بجائے انسانی ترقی، بقائے باہمی اور پرامن بقا کی طرف موڑنا ہوگا۔

جنگ سے کوئی بھی فریق حقیقی فاتح نہیں بنتا۔ فتح کا دعویٰ کرنے والوں کے دامن میں بھی صرف اپنے پیاروں کا غم اور زخم آتے ہیں۔ چاہے آپ جیتیں یا ہاریں، تباہی دونوں صورتوں میں مشترک ہوتی ہے۔

مسئلوں کا واحد اور دائمی حل امن ہے، صبر و تحمل ہے اور انصاف پر مبنی مذاکرات کی میز ہے۔ وقت آگیا ہے کہ دنیا کے رہنما اس حقیقت کو تسلیم کریں اور آئندہ نسلوں کو ایک ایسی دنیا دیں جہاں مسائل کا حل گولیوں سے نہیں، بلکہ دلائل، سچائی اور مکالمے سے نکالا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

One Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *