اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

کشمیر ایک مؤخر ہوتا انصاف اور زندہ سچ

کہتے ہیں ایک تصویر بھی اپنے اندر ہزاروں کہانیاں رکھتی ہے تو پھر یہ جیتے جاگتے لوگوں کے سامنے ظلم و بربریت کے نظارے ان کے ضمیر کو کیوں نہیں جھنجھوڑتے؟

(از قلم صاحبزادی خان)

فوجی کارروائیاں انصاف کو وقتی طور پر مؤخر تو کر سکتی ہیں، مگر سچ کو کبھی ختم نہیں کر سکتیں۔ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور ناانصافی کی ایک ایسی داستان ہے جو نہ صرف برصغیر کی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک کڑا سوال ہے۔

کشمیر کا المیہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ سامراجی طاقتوں کی لاپرواہ پالیسیوں اور بعد ازاں ریاستی جبر کا تسلسل ہے۔ کشمیر اور فلسطین دونوں وہ زخم ہیں جو برطانوی سامراج نے جدید دنیا کو ورثے میں دیے۔ دونوں معاملات اقوامِ متحدہ میں پیش کیے گئے، قراردادیں منظور ہوئیں، مگر عملی انصاف آج تک کشمیری عوام کا مقدر نہ بن سکا۔

تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر مختلف مذاہب اور قومیتوں کا مسکن رہا ہے، مگر 1846ء میں برطانوی حکومت نے ریاستِ کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی روپے کے عوض سکھ مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد کشمیری مسلمان مسلسل سیاسی محرومی، مذہبی پابندیوں اور معاشی استحصال کا شکار ہوتے چلے گئے۔ مساجد کی مسماری، مذہبی رسومات پر پابندیاں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اس دور کی تلخ حقیقتیں ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ جبر مزید شدید اور منظم ہوتا چلا گیا۔ آج کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکریت زدہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ طویل لاک ڈاؤن، میڈیا بلیک آؤٹ، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش معمول بن چکی ہے۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزائیں اور خواتین و بچوں پر تشدد ایک ایسی حقیقت ہے جسے عالمی خاموشی کی چادر میں چھپایا جا رہا ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ ظلم کسی عام شہری کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں نافذ کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش نہ صرف ناکام ہو چکی ہے بلکہ ظلم کو معمول اور انسانیت کو جرم بنا چکی ہے۔

اس کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ قابلِ رشک ہے۔ وہ نفرت یا انتقام نہیں چاہتے، بلکہ وقار کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔ وہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا مسلمہ حق ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کو عالمی فورمز پر بارہا اٹھایا اور 1965ء اور 1971ء کی جنگیں بھی اسی تنازع کے تناظر میں لڑی گئیں، مگر اصل فریق، یعنی کشمیری عوام، آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

سب سے بڑا المیہ عالمی ضمیر کی بےحسی ہے۔ انسانی حقوق کے دعوے دار، جمہوریت کے علمبردار اور آزادیٔ اظہار کے نعرے لگانے والی طاقتیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے سامنے خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے میں خاموش رہنا غیرجانبداری نہیں بلکہ ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر کے زخم ہمیں درد نہیں دیتے؟ یا ہم بےحسی کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مظلوم کی آہ صرف خبر بن کر رہ جاتی ہے؟

قرآن ہمیں صبر اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتا ہے:

“اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

(القرآن)

کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے حل ہوگا۔ وقت آ چکا ہے کہ بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا جمہوری اور انسانی حق، یعنی حقِ خودارادیت، فراہم کرے تاکہ وہ خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

کشمیری عوام بھی وہی حقوق رکھتے ہیں جو دنیا کے ہر انسان کو حاصل ہیں: آزادی، تعلیم، مذہبی آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق۔ انصاف میں تاخیر نسلوں کو تھکا سکتی ہے، مگر سچ کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

کشمیر کا سچ آج بھی زندہ ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ دنیا کب تک آنکھیں بند رکھے گی؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *