راشد علی
میڈیا رپوٹر جستجو نیوز
گزشتہ کالم میں ہم نے مختصر تعارف اپنی صحافتی زندگی کے حوالے سے کروایا تھا۔ اور کہا تھا کہ ہم ایک صحافت سیریز شروع کریں گے جس میں ہم صحافت کی تاریخ، تعریف، اہمیت اور صحافت کے اہم شعبوں کو جانیں گے۔
یاد رہے کہ میں کوئی سینئیر صحافی یا صحافت کا استاد نہیں بلکہ میں ایک ادنیٰ سا صحافت کا طالب علم ہوں اور جو کچھ اپنے اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا ہے اسے آگے بانٹ رہا ہوں۔ اس سلسلے میں کچھ انٹرنیٹ ویب سائٹس کی مدد بھی لے رہا ہوں۔ اور ساتھ ساتھ آج کل صحافت کے استاد محترم جناب جہان یعقوب صاحب کی زیر نگرانی تین ماہ پر مشتمل آن لائن میڈیا وار فئیر کورس میں شریک بھی ہوں۔
ہماری صحافت سیریز کا یہ پہلا کالم مولانا جہان یعقوب صاحب کے لیکچر کا خلاصہ ہے۔ جوکہ صحافت کے مبتدی طلباء کے لیے بےحد مفید ثابت ہوگا۔ صحافت کے تعارف سے پہلے یہ جان لیں کہ میڈیا وار فئیر کیا ہے؟ دیکھیں دنیا کی جنگیں ہمیشہ بندوق، توپ، اور بم سے نہیں لڑی جاتیں۔ کچھ جنگیں لفظوں، خبروں، اور تصویروں سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ آج کے دور میں جس نے میڈیا کو سمجھ لیا، دراصل اُس نے انسانی ذہنوں کو فتح کر لیا۔ اسی ذہنی تسلط کو ہم میڈیا وار فئیر یعنی ابلاغی جنگ کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ میڈیا وار فئیر وہ جنگ ہے جس میں دشمن کو گولی نہیں ماری جاتی بلکہ اس کی سوچ بدل دی جاتی ہے۔ کیونکہ اس جنگ کا اصل ہدف ہی عوام کے ذہن ہوتے ہیں۔
وار فئیر ایک منظم، جامع اور مربوط جنگ ہوتی ہے۔ جس میں عوام کے مائنڈ سیٹ کو اپنے نظریے کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اور یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لیے کچھ حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عام طور پر میڈیا وار فئیر کے ہتھیار یا حربے پانچ ہوتے ہیں۔
نمبر 1: پروپیگنڈا: جھوٹی خبریں پھیلانا، جزباتی مواد نشر کرنا، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اشتعال میں آجاتے ہیں۔ لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ لوگ جزبات میں آکر وہ قدم اٹھالیتے ہیں جو ملک و ملت کے نقصان دہ اور دشمنوں کے لیے فائیدہ مند ہو۔ اس کی مثال آپ آج کل اسرایل اور فلستین کے مابین جنگ کو دیکھ لیں۔ کس طرح سے دنیا بھر میں ظالم کے ظلم کو چھپایا جا رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے خلاف میڈیا وار فئیر کئی سطحوں پر جاری ہے۔ اور پروپگنڈا پھیلایا جا رہا ہے جس میں پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش،
نوجوانوں میں اپنی اقدار کے خلاف بغاوت پیدا کرنا، مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر دکھانا
قومی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا سر فہرست ہیں۔ یہ سب “میڈیا کے ذریعے جنگ” کے ہی ہتھیار ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ کو کیسے جیتا جائے ؟ اس وار فئیر سے بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟
تو اس کے لیے ہمیں عوام کے اندر شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے میڈیا اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، سچائی، اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے مضبوط بنانا ہوگا۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ صحافت کو سیکھیں۔ میڈیا میں آئیں اور اس ہتھیار کے ذریعے سے نہ صرف اپنا دفاع کریں بلکہ دشمن کو ان کی ہی زبانی منہ توڑ جواب بھی دیں۔ اس فیلڈ میں عوام کو یہ سکھایا جائے کہ خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں۔ کسی خبر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے پہلے اس کا ماخذ ضرور دیکھیں۔
اس سلسلے میں نوجوان نسل اپنے ملک، نظریہ اور دین کے دفاع میں سوشل میڈیا پر مثبت اور علمی مواد شیئر کرے۔
اگر ہم نے میڈیا کے ہتھیار کو سمجھ لیا، تو ہم نہ صرف دفاع کر سکیں گے بلکہ اپنی سچائی کو پوری دنیا تک پہنچا سکیں گے۔ قلم اور کیمرہ آج کے دور کے وہ ہتھیار ہیں جن سے قومیں جیتی یا ہارتی ہیں۔ آج کی نشست یہیں ختم کرتے ہیں۔
اگلے کالم میں اس پر مزید گفتگو ہوگی۔
زندگی باقی۔ ملاقات باقی۔
نوٹ : ادارے کا کالم نگار سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔