اہم خبریں

دکھانے کے لئے مزید پوسٹس نہیں

گاؤں کی خاموش بستی میں ایمان کی روشنی کا میلہ

✍️ بابا شہدادپوری کے قلم سے

گزشتہ روز مولانا عبد الوحید صاحب کی دعوت پر جامعہ بیت المکرم بیرانی روڑ ٹنڈوآدم حاضری کا موقع ملا ۔

اس سفر میں میرے ہمراہ میرے انتہائی قریبی دوست

ٹھکیدار خان محمد عباس تھے۔

مجھے یاد ہے کہ جب

چند سال پہلے مولانا عبدالوحید صاحب، مولا فیضان عباسی صاحب اور مولانا فیاض مری سمیت کچھ مخلص ساتھیوں نے اس پسماندہ بستی کا رخ کیا، تو وہاں علم کا چراغ کہیں دور افق پر بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بچے کتاب سے نا آشنا، اور گاؤں کی فضا جہالت کی دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ مگر ان پاکیزہ دلوں نے حوصلہ ہارا نہیں… انہی مٹی کے راستوں پر چل کر انہوں نے جامعہ بیت المکرم کی بنیاد رکھی وہ بنیاد جو آج امید کا مینار بن چکی ہے۔

گزشتہ روز اسی مدرسے میں سالانہ کارگزاری کا عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا۔ سارا علاقہ گویا خوشی کے ایک میلے میں بدل گیا تھا۔ دو تین ننھے معصوم طلبہ نے ناظرہ قرآن پاک مکمل کیا تھا۔ جب ان کی حوصلہ افزائی ہوئی تو ان کے چہروں پر جگمگاتی خوشی دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے قرآن کی نورانی آیتیں ان کے چہروں سے جھلک رہی ہوں۔

محفل کی رونق اُس وقت دوبالا ہوئی جب رئیس دارالافتاء جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلوم ٹنڈو آدم، استاد الحدیث حضرت اقدس مولانا مفتی حنیف حسنی صاحب دامت برکاتہم نے خصوصی خطاب فرمایا۔ انہوں نے قرآن کریم کی عظمت، اس کی شان، اور اس کے علمی خزانے پر نہایت دلنشین گفتگو کی۔ ائمۂ کبار کے واقعات سنا کر حاضرین کے دلوں میں قرآن کا عشق تازہ کر دیا۔ ان کا خطاب علم بھی تھا، نور بھی، اور محض گفتگو نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت تھی جو دیر تک دلوں میں بسی رہی۔

محفل میں دیگر اکابر و اساتذہ کرام کی موجودگی نے اس اجتماع کو اور بھی باوقار بنا دیا

مفتی ابرار صاحب، مفتی عامر صاحب، مولانا عاصم صاحب، قاری سلیم صاحب، مولانا برہان الدین صاحب…

اور ہمارے اپنے وہ ساتھی جن کی محنتیں پسِ پردہ رہتی ہیں مگر مدرسہ انہی کے جذبوں سے آباد ہے: مفتی فاروق صاحب، خالد انصاری صاحب، جنید شکور صاحب، شاہد بیجورو صاحب، مولانا عارف حسین صاحب، مبشر فاروقی صاحب، قاری یاسین آزاد صاحب، مولانا حسن عتیق صاحب، مولانا ساجد اقبال صاحب، مولانا طاہر فاروقی صاحب، مولانا عبدالحسیب صاحب، مولانا احمد اللہ صاحب اور دیگر بے شمار محنتی ساتھی۔

عصر کے بعد بیان، مغرب کے بعد انعامات، پھر مہمانوں کی ضیافت

ہر مرحلہ ترتیب، سلیقے اور محبت کی خوشبو سے مہکتا ہوا۔

پورے پروگرام میں ایک لمحے کو بھی بدنظمی نظر نہ آئی۔ ہر ساتھی اپنے حصے کا کام صرف ذمہ داری سے نہیں بلکہ جذبے سے کرتا دکھائی دیا۔ گویا ہر ہاتھ دعا بن گیا تھا اور ہر قدم خدمت۔

گاؤں کی یہ خاموش وادی گزشتہ روز علم، محبت اور قرآن کے نور سے جگمگا رہی تھی۔ ایسے لگا جیسے یہ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ دین کی بستی میں اجالا کرنے کا عہد تھا، جو ان مخلص دلوں نے کئی سال پہلے کیا تھا اور آج اللہ نے اسے قبولیت کی خوشبو عطا کر دی۔

جامعہ بیت المکرم جیسے ادارے زندہ قوموں کی پہچان ہیں۔

یہاں محنت کرنے والے اساتذہ، خدمت کرنے والے ساتھی اور قرآن پڑھنے والے بچے

یہ سب وہ ستارے ہیں جو اس بستی کے آسمان کو روشن کر رہے ہیں۔

اللہ ان تمام بزرگوں، اساتذہ، طلبہ اور معاونین کے اخلاص و محنت کو قبول فرمائے،

اور اس مدرسے کو آنے والی نسلوں کے لیے دین کی مضبوط پناہ گاہ بنائے۔

آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *